Al-Risala · February 1985 · page 24

اداره الرساله

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۴

رابطہ الجامعات الاسلامیہ (ص۔ ب ۲۲۴، الرباط) ایک شش ماہی مجلہ شائع کرتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۵ میں کتاب العدد“ کے عنوان کے تحت حیات الصحابہ (مولانا محمد یوسف صاحب رحمتہ اللہ علیہ) پر تبصرہ تھا۔ کتاب کے ابواب کی تفصیل دیتے ہوئے تبصرہ نگار نے لکھا تھا کہ علماء کا قول ہے کہ قرآن کے بعد پیغمبر اسلام کا سب سے بڑا معجزہ آپ کے اصحاب کرام ہیں (ان اعظم معجزة للرسول بعد القرآن هو صحابته الكرام)

چنانچہ اصحاب رسول کے حالات پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر حیات الصحابہ اس اعتبار سےممتاز ہے کہ مصنف نے زندگی کے تمام مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے صحابہ کی زندگی کو بطور نمونہ مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح یہ ایک ایسی کتاب بن گئی ہے جس کی مثال کسی بھی دوسری کتاب میں نہیں ملتی (هكذا عاملوا سيرة الرسول وصحابته الكرام بطريقة لا نجدها في اي كتاب غيره)

تبصرہ نگار نے مزید لکھا ہے کہ ایک عرب شیخ اپنے طالب علموں کو مستقل طور پر اس کتاب کے مطالعہ پر ابھارتے رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ : ان هذ الكتاب لم يؤلف على منواله في بابة يعني اس موضوع پر اس اسلوب میں اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔

ایک صاحب بڑے پر جوش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل جہاد ہے۔ جہاد سے ان کی مراد قتال تھی۔ میں نے کہا کہ امت کے رہنما اسی قسم کے جہاد میں تو سو سال سے لگے ہوئے ہیں۔ پھر مسائل حل کیوں نہیں ہوئے۔ انھوں نے قرآن سے قتال کی آیتیں پڑھنا شروع کیں ۔ میں نے کہا کہ جن لوگوں نے قرآن میں صرف قتال اور جہاد کی آیتوں کو پڑھا ہے انھوں نے قرآن کو پڑھا ہی نہیں ۔ قرآن اعراض کی بھی تعلیم دیتا ہے جس کی مثال مکی دور کی زندگی ہے۔ قرآن ایڈ جسٹ منٹ کی بھی تعلیم دیتا ہے جس کی ایک مثال صلح حدیبیہ ہے۔ قرآن قتال کی بھی تعلیم دیتا ہے جس کی مثال بدر اور احد کے واقعات ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ پہلی دونوں قسم کی تعلیمات بھول جائیں اور صرف قتال اور جہاد کی تعلیمات کو زور و شور کے ساتھ پیش کریں، ان کا یہ پیش کرنا ویسا ہی ہے جیسے بہت سے غیر اسلامی ذہن کے لوگ قرآن کی ایک آیت کھول لیتے ہیں اور اس سے اپنا مدعا ثابت کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے جنگ جو رہنماؤں کا قرآن کو پانا ایسا ہی ہے جیسے مذکورہ غیر اسلامی لوگوں کا قرآن کو پانا۔

ایک عالی شان ہوٹل تھا ایک بہت بڑے سجے ہوئے کمرہ میں لوگ قیمتی صوفوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ ہنس رہے تھے۔ سگریٹ اور مشروبات پی رہے تھے۔ بے فکری کے ساتھ ادھر اُدھر کی باتیں کر رہے تھے۔ میں نے کسی چیز میں حصہ نہیں لیا۔ بالکل خاموش میں ایک نشست پر بیٹھا ہوا تھا۔ ایک صاحب نے مجھے اس

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page