Al-Risala · January 1986 · page 8

تبلیغی طاقت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۸

تبلیغی طاقت

قرآن میں ایک مضمون دو مقامات پر بیان ہوا ہے، یہاں ہم دونوں آیتیں نقل کرتے ہیں : اولم یروا انا ناتی الارض ننقصها من اطرافها کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے واللہ یحکم لا معقب لحکمه وه و گھٹاتے چلے آرہے ہیں ۔ اور اللہ فیصلہ کرتا ہے۔ کوئی سریع الحساب (الرعد (۴۱) اس کے فیصلے کو پیچھے ڈالنے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب کرنے والا ہے۔

افلا يرون انا ناتی الارض ننقصها من کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے اطرافها انهم الغالبون (الانبیاء ۴۴) گھٹاتے چلے آرہے ہیں ۔ کیا پھر بھی وہی غالب آنے والے ہیں ۔

ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا تو مکہ کے اکابر اور سرداروں نے آپ کو رد کر دیا۔ انھوں نے آپ کے ساتھیوں کو بہکایا۔ آپ کے بارہ میں بے بنیاد پروپیگنڈے کیے ۔ آپ کی معاشیات کو تباہ کیا۔ آپ کو اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کیا ۔ آپ پر جارحانہ حملے کیے ۔ آپ کو مجبور کر دیا کہ آپ اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ چلے جائیں۔

قریش خوش تھے کہ انھوں نے یہ سب کر کے پیغمبر اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔ انھوں نے آپ کے مسئلہ" کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔ عین اس وقت یہ کہا گیا کہ تمهارا یہ بے بنیاد خیال صرف اس لیے ہے کہ تمہاری آنکھیں صرف قریب کے حالات کو دیکھ رہی ہیں، دور کے احوال کی تمہیں خبرنہیں۔ عین اس وقت جب کہ قریش اسلام کا جغرافی دائرہ تنگ کر رہے تھے، اس کا نظریاتی دائرہ بڑھتا جا رہا تھا۔ ہر روز شرک کے حلقہ سے کچھ افراد نکل کر اسلام کے حلقہ میں داخل ہو رہے تھے۔ قریش اسلام کے مادی جغرافیہ کو تنگ کر کے خوش ہو رہے تھے مگر اسلام کی تبلیغی طاقت خود قریش کے نظریاتی جغرافیہ کو تنگ کر رہی تھی ۔ اور تجربہ نے ثابت کیا کہ پہلی طاقت کے مقابلہ میں دوسری طاقت زیادہ موثر ہے۔

دعوت و تبلیغ سب سے بڑی طاقت ہے، بشرطیکہ اس کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page