Al-Risala · January 1986 · page 7

پیدائشی مسلم

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۷

پیدائشی مسلم

گاری ملر (Garry Miller) ایک امریکی عیسائی تھے ۔ وہ ایک کالج میں بائبل کے ٹیچر تھے۔ تھے۔ 1978 میں ان کو یہ خیال ہوا کہ قرآن کو پڑھ کر دیکھیں کہ اس میں کیا لکھا ہے ۔ انھوں نے قرآن اور بائبل کا تقابلی مطالعہ کیا ۔ اس مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اوپر اسلام کی حقانیت منکشف ہوگئی اور انھوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ ان کا اسلامی نام عبد الاحد عمر ہے ۔ وہ اب اپنی نومسلم بیوی کے ساتھ کناڈا میں رہتے ہیں ۔ وہ اپنے کو مذہب بدلنے والا (Convert) کہلانا پسند نہیں کرتے ۔ اس کے بجائے وہ اپنے آپ کو واپس آنے والا (Revert) کہتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے اسلام قبول نہیں کیا ہے بلکہ میں اپنے پیدائشی مذہب کی طرف واپس آیا ہوں :

I haven't converted to Islam but merely reverted to my birthright religion Muslim Journal Chicago, June 21, 1985 مذکورہ نومسلم نے جو بات کہی وہ بے حد اہم ہے ۔ اور عین قرآن وسنت کے مطابق ہے ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرت صحیحہ پر پیدا کیا ہے (الروم ۳۰) حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا خدا کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے (كل مولود يولد على الفطرة) اس اعتبار سے ہر آدمی پیدائشی مسلم ہے ۔ خدا کے کارخانے سے وہ مسلم و مومن بن کر آتا ہے ۔ اس کے بعد اس کی قومی روایات اور اس کے ماحول کے اثرات اس کو کسی اور مذہب پر ڈال دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہے کہ اسلامی دعوت کا کام حقیقت لوگوں کے مذہب کو بدلنا نہیں ہے بلکہ ان کے اوپر پڑے ہوئے مصنوعی غلاف کو ہٹا دینا ہے۔ اگر ہم ایسا کر سکیں کہ انسان کے اوپر پڑے ہوئے خارجی غلاف کو ہٹا دیں تو اس کے بعد جو انسان بچے گا وہ وہی ہوگا جس کو مومن کہا جاتا ہے ۔

ہر آدمی حقیقت کے اعتبار سے مومن ہے ، اگر چہ ظاہر کے اعتبار سے وہ کچھ اور دکھائی دیتا ہے۔ مزید یہ کہ انسان کی یہ فطرت اسلامی دعوت کے حق میں ایک عظیم امدادی قوت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی کے سینہ میں دین حق کا ایک مثنیٰ موجود ہے۔ آدمی کا اندرونی شعور خود اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ یہی حق ہے اور اس کو اپنی چیز سمجھ کر اسے اختیار کر لینا چاہیے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page