تاریخ پکارتی ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۶
چنانچہ دکن کا صوبہ ۱۷۲۴ء میں میر قمر الدین خاں (نظام الملک) کے تحت آزاد ہو گیا۔ صوبہ اودھ میں سعادت خاں نے ۱۷۵۲ء میں آزاد حکومت قائم کر لی۔ صوبہ بنگال میں سرفراز خاں نے ۱۷۳۹ء میں آزاد ہو کر نواب بنگال کا لقب اختیار کر لیا۔ اسی طرح راجپوت ریاستوں (اودے پور، جودھ پور، جے پور، وغیرہ) نے دہلی کی سیاسی وفاداری ترک کر کے آزاد حیثیت حاصل کر لی۔ اورنگ زیب عالم گیر نے جو عظیم سلطنت بنائی تھی وہ اس کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہ گئی۔
اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغل سلطنت بظاہر ڈیڑھ سو سال تک باقی رہی۔ مگر یہ ڈیڑھ سو سال صرف باہمی قتل و خون کے سال تھے۔ مغل شاہزادے اور امراء اور وزراء ذاتی اقتدار کے لیے مسلسل آپس میں لڑتے رہے۔ اور مغل سلطنت دن بدن کمزور اور منتشر ہوتی چلی گئی۔ انگریز اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ملک میں دخیل ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے انھوں نے پورے ملک پر قبضہ کر لیا۔ لال قلعہ میں بظاہر مغل تاج دار موجود تھا مگر عملاً سارا اقتدار انگریزوں کے قبضہ میں تھا۔ چنانچہ کہا جانے لگا کہ :
حکومت شاہ عالم از دلی تا پالم ۔
اور یہ کہ تخت بہادر شاہ کا، حکم کمپنی بہادر کا ۔
آخر کار ۱۸۵۷ء کا انقلاب بر پا ہوا اور یہ نام کی مغل سلطنت بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ مغل سلطنت کی یہ کہانی تمام مسلمانوں کی کہانی ہے۔ بعد کے دور میں مسلمانوں کی بر بادی کی سب سے بڑی وجہ وہی ہے جس کی ایک تصویر اوپر کی مثال میں نظر آتی ہے۔ بعد کے دور میں مسلمانوں کا حال یہ رہا کہ جس شخص کو بھی کوئی موقع ملا وہ ذاتی بڑائی قائم کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ وہ ملے ہوئے مواقع کو اجتماعی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد میں استعمال کرنے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وقتی طور پر چھوٹی چھوٹی بڑائیاں تو قائم ہوئیں، مگر ملّت کی عظیم تر بڑائی قائم نہ ہو سکی۔
ایک فرد جب اپنے آپ کو چھوٹا کرنے پر راضی ہوتا ہے اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ پورے مجموعہ کی بڑائی قائم ہو۔ فرد کی قربانی ہی مجموعہ کی بڑائی کی اصل قیمت ہے۔ جس قوم کے افراد کا یہ حال ہو کہ ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو بڑا بنانے کے لیے دوڑے، ایسی قوم کبھی عظمت کا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ نہ پہلے کبھی ایسا ہو ا اور نہ آج ایسا ہو سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues