Al-Risala · March 1986 · page 7

آغاز و انجام

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۷

آغاز و انجام

۲۸ جنوری ۱۹۸۶ء کو امریکہ میں ایک عجیب حادثہ ہوا۔ ایک خلائی سواری (Space shuttle) ایک بلین ڈالرسے زیادہ رقم خرچ کر کے تیار کی گئی ۔ اس کا نام چیلنجر (Challenger) تھا۔ وہ ایک خاص اسٹیشن سے ۲۸ جنوری کو خلا کی طرف اڑائی گئی ۔ مگر داہنے جانے کے صرف ایک منٹ بعد دھما کہ ہوا اور سواری جل کر راکھ ہوگئی ۔ اس کے سات مسافر بیک وقت مر گئے ۔ کوئی مشینی یا انسانی چیز باقی نہ رہی جو حادثہ کی تفصیلات سے بعد والوں کو باخبر کر سکے ۔

پہلی بار انسان 1957 میں خلا میں گیا تھا ۔ موجودہ چیلنجر اپنی قسم کی ۲۵ ویں خلائی سواری تھی ۔ یہ پورا واقعہ ٹیلی وژن پر دکھایا جا رہا تھا ، چنانچہ کروڑوں لوگوں نے چیلنجر کو زمین سے اوپر جاتے اور اچانک اس کو برباد ہوتے ہوئے دیکھا ۔ سات مسافر جو اس حادثہ میں ہلاک ہوئے ان کو اخبارات نے خلائی ہیرو (Space heroes) کا لقب دیا ہے ۔

ان مسافروں میں ایک خاتون ٹیچر کرسٹامیک آلف (Christa McAuliffe) بھی تھیں ۔ ۳۷ سالہ کرسٹامیک آلف نے سفر سے پہلے ۲۲ جولائی ۱۹۸۵ء کو ایجوکیشنل نیوز سروس کو ایک انٹرویو دیا تھا ۔ اس انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ خلائی سفر میں غالباً میں اپنے آپ کو نیو یارک کی سڑکوں پر چلنے سے زیادہ محفوظ پاؤں گی :

I feel, probably. safer going into space than driving around the New York streets. The Times of India (New Delhi) January 30, 1986 ہمارے دیہات کا ایک آدمی دہلی کے باشندوں پر رشک کرتا ہے ۔ جو شخص دہلی میں ہے وہ نیو یارک میں رہنے والے آدمی پر رشک کرتا ہے ۔ اور نیو یارک میں رہنے والے کا حال یہ ہے کہ وہ نیو یارک میں مطمئن نہیں ۔ وہ امید کرتا ہے کہ وہ خلا میں زیادہ محفوظ سفر کرنے کے قابل ہوگا۔ مگر جب وہ زمین سے نکل کر خلا کی طرف روانہ ہوتا ہے تو سفر شروع ہونے پر ابھی ایک منٹ گزرتا ہے کہ اس کی پوری سواری جل کر بھسم ہو جاتی ہے اور وہ اپنی تمام امیدوں اور حوصلوں کے ساتھ راکھ بن کر فضا میں منتشر ہو جاتا ہے ۔ کیسا عجیب ہے انسان کا آغاز اور کیسا عجیب ہے انسان کا انجام۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page