تعصب
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۹
تعصب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ آئے ۔ اس وقت مدینہ میں کچھ یہود آباد تھے۔ ان کے ایک عالم عبد اللہ بن سلام آپ سے ملے اور کچھ خاص سوالات کیے۔ عبد اللہ بن سلام پر کھل گیا کہ آپ واقعی خدا کے رسول ہیں۔ چنانچہ انھوں نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔
اس کے بعد یہودی قبیلہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ ان کو ابھی معلوم نہ تھا کہ عبد اللہ بن سلام نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہودیوں سے پوچھا گیا کہ عبد اللہ بن سلام تمہارے درمیان کیسے آدمی ہیں ( (فاُیُّ رجل فيكم عبد الله بن سلام ) اس کے جواب میں انھوں نے کہا : ذاك سيّدنا و ابن سيّدنا و اعلمنا و ابن اعلمنا ( وہ ہمارے سردار ہیں اور سردار کے بیٹے ہیں ۔ وہ ہمارے بڑے عالم ہیں اور ہمارے بڑے عالم کے بیٹے ہیں )
پھر پوچھا گیا کہ تمہارا ان کے بارے میں کیا خیال ہو گا اگر وہ اسلام قبول کر لیں ۔ انھوں نے کہا خدا کی پناہ ، وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتے ۔ اس وقت عبد اللہ بن سلام اندر موجود تھے ۔ وہ نکل کر باہر آئے اور یہود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرو ۔ خدا کی قسم یہ اللہ کے رسول ہیں ۔ وہ حق لے کر آئے ہیں۔ میں ان پر ایمان لایا ہوں تم بھی ان پر ایمان لاؤ ۔ یہ سن کر فوراً یہود کا لہجہ بدل گیا ۔ انھوں نے کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو ( (کذبت) ) ایک روایت کے مطابق انھوں نے عبد اللہ بن سلام کے بارہ میں کہا کہ تم نہایت برے ہو اور برے کے بیٹے ہو اور انھوں نے ان کی تحقیر کی ( قالوا شرنا وابن شرنا وتنقصوه ) ایک اور روایت میں ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے یہود نے عبد اللہ بن سلام کے بارہ میں کہا کہ وہ ہمارے بہترین شخص ہیں اور بہترین شخص کے بیٹے ہیں۔ وہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں۔ ( فجاءت اليهود فقال ایُّ رجل عبد الله فيكم ۔ فقالو اخيرنا وابن خيرنا وسيدنا وابن سيد نا ) مگر جب عبد اللہ بن سلام نے آکر ان کے سامنے اپنے اسلام کا اعلان کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ نہایت برے شخص ہیں اور برے شخص کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے ان کو ذلیل و حقیر کر دیا۔ ( قالوا اشرنا و ابن شرنا واشقصوہ ) سیرت ابن کثیر جلد ثانی ، صفحہ ۹۶ - ۲۹۵ تعصب کی یہ قسم آج بھی اتنے ہی بڑے پیمانہ پر پائی جاتی ہے جس طرح وہ قدیم زمانہ میں تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues