Al-Risala · March 1986 · page 40

تنظیم کے بغیر

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۴۰

تنظیم کے بغیر

سینٹ برنارڈ صلیبی دور کا مسیحی پا در ی ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے صلیبی جنگوں کے زمانہ میں یورپ کی مسیحی سلطنتوں کو مقدس جہاد کے لیے ابھارا۔ مگر دو سو سال کی لمبی کوشش کے باوجود مسیحی اقوام کو مسلمانوں کے مقابلہ میں مکمل شکست ہوئی۔

بر ٹرینڈ رسل نے اس سلسلہ میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر چہ سینٹ برنارڈ نے صلیبی جنگ کی تبلیغ کی۔ مگر بظاہر وہ اس حقیقت کو نہیں جانتا تھا کہ جنگ لازمی طور پر تنظیم چاہتی ہے۔ جنگ صرف مذہبی جوش کے تحت نہیں لڑی جاسکتی :

Although he preached the Crusade, he did not seem to understand that a war requires organisation, and cannot be conducted by religious enthusiasm alone. A History of Western Philosophy, p. 431 یہ بات جو بر ٹرینڈ رسل نے صلیبی دور کے مسیحیوں کے بارہ میں لکھی ہے۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے بارہ میں بھی عین درست ہے۔ یہاں مسلمانوں کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ الفاظ صادق آ رہے ہیں کہ تم پچھلی امتوں کے اسوہ پر چلو گے۔ حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں تو تم بھی اس کے اندر جا گھسو گے ۔

مسیحی اقوام نے قدیم زمانہ میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کی۔ یہ جنگ محض مذہبی جوش کے تحت تھی۔ اس میں تنظیم شامل نہ تھی۔ چنانچہ انہیں کامل شکست ہوئی۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنی غالب اقوام کے خلاف بے شمار جنگیں کیں۔ مگر یہ تمام جنگیں تنظیم کی ضروری شرط سے خالی تھیں ۔ چنانچہ یہاں بھی یہی ہو ا کہ مسلمانوں کو ہر محاذ پر شکست ہوئی ۔ کیسی عجیب مشابہت ہے قدیم اہل کتاب میں اور جدید اہل کتاب میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو اس کے پاس صرف جھوٹا جوش باقی رہتا ہے۔ وہ ہوش اس سے رخصت ہو جاتا ہے جو آدمی کے اندر سنجیدگی ، حقیقت پسندی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں اس سے وہی کردار ظاہر ہو تا ہے جس کا نمونہ صلیبی جنگوں کے زمانہ میں مسیحی اقوام نے پیش کیا اور موجودہ زمانہ میں جس کا مظاہرہ مسلمان ساری دنیا میں کر رہے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page