Al-Risala · March 1986 · page 11

بے صبری کا نتیجہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۱۱

بے صبری کا نتیجہ

۱۵ جنوری ۱۹۸۶ء کا واقعہ ہے ۔ انڈین ایئر لائنز کا ایک جہاز ( فلائٹ نمبر406 ) بمبئی سے دہلی کے لیے اُڑا۔ مگر صرف پندرہ منٹ بعد وہ واپس ہوا اور دوبارہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا ۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ یہ جہاز کسی تکنیکل سبب سے آدھ گھنٹہ لیٹ ہو گیا تھا۔ جہاز جب اوپر فضا میں پہونچا تو اس کے ایک مسافر نے کیپٹن بھٹناگر کے نام ایک نوٹ بھیجا کہ وہ بتائے کہ جہاز کیوں آدھ گھنٹہ لیٹ روانہ ہوا ہے ۔ کیپٹن نے مذکورہ مسافر کو کاک پٹ میں بلایا اور وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ لیٹ ہونے کی وجہ کیا تھی ۔ مسافر اس کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوا اور کیپٹن کی پیٹھ پر گھونسہ مار کر کہا کہ میں نے تمہارے جیسے بہت پائلٹ دیکھے ہیں :

I have seen many pilots like you.

کیپٹن بھٹناگر اس صورت حال سے گھبرا اٹھے۔ انھوں نے فوراً جہاز کو موڑ دیا اور اس کو واپس لاکر دوبارہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتار دیا۔ اس کے بعد بمبئی کے ہوائی اڈہ پر کافی دیر تک ہنگامہ رہا۔ بالآخر انڈین ایئر لائنز کے ذمہ داروں نے جہاز کو دوسرے پائلٹ کے ذریعہ روانہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذکورہ جہاز جب بمبئی سے دہلی پہونچا تو وہ تین گھنٹہ لیٹ ہو چکا تھا۔ مسافر نے آدھ گھنٹہ کی تاخیر برداشت نہ کی۔ اس کی قیمت انھیں یہ دینی پڑی کہ وہ تین گھنٹہ تاخیر کے ساتھ اپنی منزل پر پہونچے۔ مزید یہ کہ انڈین ایرلائنز کے ذمہ داروں نے ایک انکوائری (High-level inquiry) بٹھائی ہے۔ مذکورہ مسافر بالفرض کسی سزا سے بچ جائے تب بھی وہ ایک انجام سے بچ نہیں سکتے۔ اسی چیز کی اور زیادہ قیمت دینا جس کی تھوڑی قیمت دیئے پر وہ راضی نہیں ہوئے تھے ، یعنی وقت ۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کر رہا ہے۔ حالاں کہ وہ اپنے مقصد کو کھو رہا ہوتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہوں۔ حالاں کہ اس کی تیزی کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی منزل سے کچھ اور دور ہو جائے ۔ (ٹائمْس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمْس ۱۶ جنوری ۱۹۸۶ء)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page