تاريخ ساز کردار
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۱۳
تاريخ ساز کردار
اگر ہر درخت یہ چاہے کہ وہ جہاں ہے وہیں کھڑا رہے تو کبھی زمین پر ریلوے لائن نہیں بچھ سکتی۔ اگر تمام دریا یہ چاہیں کہ ان کے سینہ کے اوپر کوئی پل نہ بنے تو وہ لمبی شاہ راہیں نہیں بنائی جا سکتیں جن کے اوپر انسانیت کے قافلے ایک طرف سے دوسری طرف سفر کرتے ہیں۔ اگر زمین یہ چاہے کہ اس کے اوپر رولر چلا کر اس کے پست و بلند کو ہموار نہ کیا جائے تو وہ پر رونق دنیا تعمیر نہیں کی جاسکتی جس کو شہر کہا جاتا ہے۔ اس دنیا کا یہ اصول ہے کہ یہاں تخریب کے بعد تعمیر وجود میں آتی ہے۔ یہاں مجموعہ کی ترقی اجزار کی قیمت پر ہوتی ہے۔ یہاں کلی فائدہ کی خاطر انفرادی نقصان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہی اصول فطرت کی دنیا کے لیے ہے اور یہی اصول انسانی دنیا کے لیے۔
دین کا معاملہ بھی یہی ہے: یہاں بھی انفرادی قربانیوں کی زمین پر دین کا قلعہ بنتا ہے ۔ افراد جب پیچھے ہٹنے پر راضی ہوتے ہیں اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ دین کے مجموعی قافلہ کو اگلی منزل کی طرف رواں دواں کرنے کے لیے راستہ ملے۔
ایک ہے دیندار بننا، اور ایک ہے تاریخ ساز بننا۔ پہلی شکل انفرادی دین داری کی ہے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ بہت سے لوگ اجتماعی قوت بن کر دین کی نئی تاریخ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ پہلا کام آسان ہے مگر دوسرا کام بے حد مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ مشکل اور کوئی کام اس دنیا میں نہیں ۔
اگر آپ داڑھی رکھ لیں۔ آپ نماز روزہ جیسے دینی فرائض کے پابند بن جائیں تو ایسا کرنے کے بعد بھی آپ اپنی ذاتی مصلحتوں کے خانہ ہی میں رہتے ہیں ۔ آپ کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ آپ اپنے خول کو توڑ کر اس سے باہر آئیں۔ مگر جب آپ دوسروں کے ساتھ مل کر دین کی ایک تاریخ بنانا چاہیں تو بات بالکل بدل جاتی ہے ۔ اب آپ کی ذاتی مصلحتیں دوسروں کی مصلحتوں سے ٹکراتی ہیں۔ آپ کے انفرادی تقاضے اجتماعی تقاضوں سے مجروح ہوتے ہیں ۔ یہ ایک بے پناہ آزمائش ہے جس سے عہدہ بر آہونا بے پناہ صبر کے بغیر ممکن نہیں ۔
اس بنا پر ضروری ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں بہت سے لوگ "مقتدی " بنے رہیں یعنی ہوں تاکہ ایک
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues