عجز انسان
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۱۷
عجز انسان
جنرل مانکشا (S.H.F.J. Manekshaw) ہندوستان کے پہلے فیلڈ مارشل تھے ۔ اس کے بعد جنوری ١٩٨٦ میں جنرل کیری اپا (K.M. Cariappa) کو ہندوستان کے دوسرے فیلڈ مارشل کا اعزازی خطاب دیا گیا ہے ۔ ۳۵ سال پہلے وہ ہندوستانی فوج سے ریٹائر ہوئے تھے ۔ انھوں نے ہندوستانی فوج میں جو خدمات انجام دیں اس کو انگریزی اخبارات نے شاندار فوجی کردار (Illustrious military career) سے تعبیر کیا ہے اور ان کو ملک کے قومی ہیرؤوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔
اس موقع پر دہلی میں مختلف فوجی تقریبات ہوئیں جن میں جنرل کیری اپا شریک ہوئے ۔ ۱۵ جنوری ١٩٨٦ کو نئی دہلی کے پریڈ گراؤنڈ میں وہ ہندوستانی فوج کا معائنہ کر رہے تھے ۔ فوجی جوان پر عظمت انداز میں ان کے سامنے سے گزر رہے تھے ۔ اس دوران ۸۶ سالہ فیلڈ مارشل کیری اپا سے ایک اخبار نویس نے ان کا تاثر پوچھا۔ ان کا فوری جواب یہ تھا :
I envy them. I am not young to march with them.
مجھے ان پر رشک آتا ہے ۔ میں جوان نہیں کہ ان کے ساتھ مارچ کر سکوں (ٹائمز آف انڈیا ١۶ جنوری ١٩٨۶) کیسا عجیب ہے زندگی کا تجربہ ۔ انسان فوجی کارنامے انجام دیتا ہے ۔ وہ فتوحات کرکے اپنے آپ کو قومی ہیرؤوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ اس کو سب سے بڑا فوجی اعزاز دیا جائے اور اس کو فیلڈ مارشل کے پر عظمت خطاب سے نوازا جائے ۔ مگر اس وقت انسان اتنا کمزور ہو چکا ہوتا ہے کہ ملنے والے انعام کو اپنے ہاتھ سے پکڑنے کی طاقت اسے حاصل نہیں ہوتی ۔ وہ ان فوجیوں کے قدم بقدم چلنے سے بھی عاجز ہوتا ہے جن کو ساتھ لے کر اس نے کبھی معرکے سر کیے تھے اور قلعے فتح کیے تھے ۔
انسان ایک عاجز مخلوق ہے ۔ اس کا عاجز اس کو حادثہ اور بڑھاپا اور موت کی صورت میں دکھایا جاتا ہے ۔ مگر کوئی نہیں جو اس سے سبق لے ۔ آدمی اس سب سے بڑی حقیقت کو سب سے زیادہ بھولار ہتا ہے ۔ وہ صرف اس وقت جاگتا ہے جب کہ خدا کا آخری فیصلہ ظاہر ہو کر اس کو خدا کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے ۔ مگر اس وقت کا جاگنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues