دماغ ایک نشانی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۱۸
دماغ ایک نشانی
آدمی کو روزانہ نیند آتی ہے اور وہ سو جاتا ہے ۔ اس کو وقت پر بھوک لگتی ہے اور وہ کھانا کھاتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ عام تجربہ ہے جو ہر انسان کو پیش آتا ہے ، خواہ وہ امیر ہو یا غریب ۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک عام تجربہ ہے کہ دماغ کو جب کوئی سخت جھٹکا لگتا ہے تو نیند اور بھوک دونوں اڑ جاتی ہیں ۔ اب رات آتی ہے مگر آدمی سو نہیں پاتا ۔ کھانے کا وقت آتا ہے مگر اشتہانہ ہونے کی وجہ سے آدمی کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ کھانا کھائے ۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس پورے معاملے کا تعلق دماغ سے ہے ۔ انسان کا جسم بظا ہر اسباب کا ایک نظام ہے ۔ مگر یہ نظام دماغ کے حکم کے تحت عمل کرتا ہے ۔ دماغ حکم دیتا ہے کہ نیند آئے اس وقت آدمی کو نیند آتی ہے ۔ دماغ حکم دیتا ہے کہ بھوک لگے اس وقت آدمی کو بھوک لگتی ہے اور وہ کھانا کھاتا ہے ۔ جب دماغ کسی ناگہانی سبب سے منتشر ہو جائے تو وہ اپنے معمول کے احکام نہیں دے پاتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی حالت میں جسم کا نظام معطل ہو جاتا ہے ۔ یہ انسانی واقعہ چھوٹی سطح پر زیادہ بڑے واقعہ کا نمونہ ہے ۔ یہ خدا کی خدائی کو سمجھنے میں ہماری مدد کر رہا ہے ۔
دماغ کا جو تعلق جسم سے ہے ، وہی تعلق خدا کا پوری کائنات سے ہے ۔ کائنات بظاہر ایک مکمل نظام ہے جس کا ڈھانچہ اسباب و علل کا ایک کار خانہ دکھائی دیتا ہے ۔ مگر ان سب کے اوپر ایک برتر دماغ ہے اور وہ خداوندِ عالم کی ذات ہے ۔ دنیا کا ہر واقعہ اس وقت ہوتا ہے جب خدا اس کا حکم دے۔ رات اور دن کا آنا ، فصل کا اگنا ، بارش کا برسنا ، زندگی اور موت کے واقعات سب کے سب براہِ راست خدا کی طرف سے کنٹرول ہو رہے ہیں ۔ قرآن کے الفاظ میں یہ پورا کا پورا کن فیكون کا نظام ہے ۔ خدا جس چیز کو کہتا ہے کہ ہو ، وہ ہو جاتی ہے ۔ اور خدا جس چیز کے ہونے کا حکم نہیں دیتا وہ نہیں ہوتی ۔
موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں کے مادی واقعات معنوی حقیقتوں کی تمثیل بن گئے ہیں ۔ دماغ اور جسم کا تعلق خدا اور کائنات کے تعلق کی تمثیل ہے ۔ آدمی اگر چاہے تو خود اپنی ذات میں خدا کی معرفت حاصل کر سکتا ہے ۔ اور اگر وہ نہ چاہے تو ساری کائنات بھی اس کو معرفت تک پہنچانے کے لیے کافی نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues