انتقام نہ لینا
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳
کی ایک خادمہ نے اس پورے واقعہ کو دیکھا۔ وہ واپس ہوئی تو راستہ میں اس کی ملاقات آپ کے چچا حمزہ بن عبد المطلب سے ہوئی جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے۔
حمزہ اس وقت شکار سے واپس آرہے تھے اور ان کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی۔ خادمہ نے ان سے کہا کہ ابو عمارہ، کاش آپ دیکھتے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ کے بھتیجے محمدؐ کے ساتھ ابو الحکم بن ہشام (ابو جہل) نے کیا کیا۔ اس نے آپ کے بھتیجے کو یہاں بیٹھا ہوا دیکھا تو ان کے ساتھ بد زبانی کی اور ان کو سخت برا بھلا کہا۔ حمزہ کو یہ سن کر غصہ آگیا۔ وہ فورا ابو جہل کی تلاش میں چل پڑے۔ یہاں تک کہ انھوں نے دیکھا کہ وہ کعبہ کے اندر اپنے آدمیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ وہ تیزی سے اس کے پاس پہنچے اور اپنی کمان اس کے سر پر اتنے زور سے ماری کہ خون بہنے لگا۔ اس کے بعد ابو جہل کے قبیلہ (بنو مخزوم) کے لوگ دوڑے کہ حمزہ کو ماریں ۔ مگر ابو جہل نے فوراً انھیں روک دیا۔ اس نے کہا کہ اے ابو عمارہ (حمزہ) کو چھوڑ دو۔ کیوں کہ خدا کی قسم میں نے ان کے بھتیجے کو بہت زیادہ برا بھلا کہہ دیا تھا (دعوا ابا عمارة فاني والله قد سببت ابن اخيه سبا قبیحاً، سيرت ابن هشام، الجزء الاول، صفحه ۳۱۳)
یہ مثال بتاتی ہے کہ ابو جہل نے دو واقعات کو ایک دوسرے سے ملاکر دیکھا۔ اپنی بد زبانی کو اور حمزہ کے مارنے کو۔ اگر وہ اپنی بد زبانی کو الگ کر دیتا اور صرف حمزہ کے مارنے کو دیکھتا تو وہ بھی غصہ ہو جاتا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر حمزہ کو مارنا شروع کر دیتا۔ مگر جب اس نے حمزہ کے فعل کے ساتھ خود اپنے فعل کو ملا کر دیکھا تو اس کو معاملہ سرا بر برابر نظر آیا اس لیے اس نے نہ خود حمزہ کو برا کہا اور نہ اپنے ساتھیوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت دی۔ موجودہ دنیا میں حقیقتیں ملی جلی صورت میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعہ کو ایک رخ سے دیکھا جائے تو وہ کچھ نظر آتا ہے اور دوسرے رخ سے دیکھا جائے تو وہ کچھ بن جاتا ہے ، یہاں اللہ تعالیٰ نے آدمی کو عقل دے کر اسے اس امتحان میں ڈالا ہے کہ وہ اپنی عقل کے استعمال سے صحیح رخ کو جانے۔ وہ واقعات کو ان کے صحیح ترین رُخ سے دیکھ سکے۔ اگر آپ واقعہ کو صحیح رخ سے نہ دیکھیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اس معاملہ میں آپ کا رویہ بالکل غلط ہو کر رہ جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues