انتقام نہ لینا
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۲۲
کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت آپ کے سامنے یہی مسئلہ تھا۔ مزید یہ کہ آپ دشمن کی نظروں سے بچنے کی خاطر یہ چاہتے تھے کہ معروف راستہ کو چھوڑ کر غیر معروف راستے سے اپنا سفر طے کریں۔ آپ کو ایک ایسے اچھے رہنما کی ضرورت تھی جو آپ کو مطلوب راستے سے چلا کر بحفاظت مدینہ پہنچا دے۔ اس وقت جو صورت پیش آئی اس کا ذکر سیرت ابن ہشام میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے :
فاستاجر عبد الله بن ارقط، منجلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے) من بنى الديل بن بكر، وكانت امة امرأة عبد اللہ بن ارقط سے اجرت پر معاملہ کیا۔ وہ بنو دیل من بنی سہم ابن عمرو، و كان مشرکاً يکد لہما بن بكر کا ایک شخص تھا اور اس کی ماں بنو سہم بن عمرو علی الطریق - سے تعلق رکھتی تھی ۔ وہ راستہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کی رہنمائی کر رہا تھا ۔
عبد اللہ بن ارقط کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ مشرک تھا۔ یعنی وہ رسول اللہﷺ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ وہ صحرائی راستوں کا ماہر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ارقط کے ان دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا۔ اسی لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ اس کو اپنے سفر کا رہنما بنائیں۔ اگر آپ اس کے رہنما ہونے کی حیثیت کو اس کے مشرک ہونے کی حیثیت سے الگ کر کے نہ دیکھتے تو کبھی ایسا نہ ہوتا کہ آپ ہجرت جیسے نازک سفر میں اس کو اپنے راستہ کا رہنما بنائیں ۔
انتقام نہ لینا
دوسری مثال کے ذیل میں ہم ایک غیر مسلم کا واقعہ نقل کریں گے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس کا مقابلہ اپنی زندگی سے کر کے دیکھیں کہ کیا وہ دانش مندی کے اس معیار پر پورے اترتے ہیں جو کبھی ایک غیر مسلم تک کے یہاں پایا جاتا تھا۔
سیرت کی کتابوں میں یہ واقعہ حضرت حمزہ کے اسلام کے ذیل میں آیا ہے۔ مکی دور میں ایک بار ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کے پاس تھے۔ ابو جہل وہاں سے گزرا۔ ابو جہل نے آپ کو برا بھلا کہا اور آپ کے ساتھ بد زبانی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل خاموش رہے۔ عبد اللہ بن جدعان
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues