Al-Risala · March 1986 · page 36

Alcoholic beverages will not be provided

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۳۶

اور کچھ لوگ خاموشی سے باہر چلے گئے۔

۱۵ نومبر کی شام کو ”اسمبلی“ کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ جدید طرز کے وسیع ہال میں ۸۵ ملکوں کے آٹھ سو سے زیادہ افراد موجود تھے جو روئے زمین کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے مذاہب کی نمائندگی کرتے تھے: یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ۱۸۹۳ء میں (World's Parliament of Religions) عالمی مذاہب کا نفرنس شکاگو میں ہوئی تھی۔ اس میں ہندوستان سے سوامی دیویکا نند بحری سفر کرکے بڑی دشواریوں کے ساتھ شکاگو پہنچے تھے۔ وہ اس کانفرنس میں مدعو نہ تھے۔ محض ذاتی شوق سے وہاں گئے تھے۔ چنانچہ ان کو بڑی مشکل سے اس میں داخل ہونے اور تقریر کرنے کی اجازت ملی۔ انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز اس لفظ سے کیا تھا کہ امریکہ کے بہنوں اور بھائیو : Sisters and brothers of America پونے سال پہلے سوامی دیویکا نند کا یہ اندازِ واقعہ کے مطابق تھا۔ کیوں کہ ۱۸۹۳ء کی کانفرنس میں زیادہ تر امریکہ کے لوگ شامل تھے۔ مگر موجودہ کانفرنس کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ موجودہ کانفرنس ” امریکی بہنوں اور بھائیوں “ کی کانفرنس نہ تھی بلکہ وہ پورے کُرہ ارض کے تمام مذاہب کے نمائندوں کی کانفرنس تھی۔ چنانچہ اس کے صدر نے جب ”اسمبلی“ کا افتتاح کیا تو اس نے اپنی تقریر ان الفاظ سے شروع کی :

Sisters and brothers, from south and north, from east and west اس کانفرنس میں اول سے آخر تک صرف ایک زبان استعمال ہوئی اور وہ انگریزی تھی۔ لوگوں کے عقائد، ان کے حلیے اور ان کے لباس ایک، دوسرے سے مختلف تھے۔ مگر سب ایک ہی زبان (انگریزی) بولتے تھے۔ اگر چہ لوگوں کے لہجہ میں کافی فرق تھا۔ مثلاً کوئی entity کو انٹا ئٹی کہتا تھا۔ کوئی your کو یووار۔ کوئی values کو فیلوز۔ کوئی modern کو ماڈرُن۔ کوئی those کو زوزو وغیرہ۔

انگریزی کا یہ استعمال انگریزی تہذیب کے غلبہ کی وجہ سے تھا۔ اولاً برطانیہ عظمیٰ نے انگریزی کو عالمی زبان بنایا۔ بیسویں صدی میں جب برطانیہ عظمیٰ نے عالمی طاقت کی حیثیت کھو دی تو امریکہ اس کی جگہ زیادہ بڑے پیمانہ پر عالمی طاقت بن چکا تھا۔ انگریزی زبان کا یہ عمومی استعمال ہر بناتے واقعہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page