Al-Risala · March 1986 · page 35

Alcoholic beverages will not be provided

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۳۵

لوگ بھوکے تھے۔ جب کہ پھل اور سبزی اور غلہ افراط کے ساتھ پایا جا رہا تھا۔ مکانات ٹھنڈے پڑے ہوئے تھے جب کہ پہاڑوں میں کوئلہ کا ڈھیر موجود تھا۔

آج بظاہر امریکہ میں خوش حالی ہے۔ مگر یہ خوش حالی سراسر مصنوعی ہے۔ امریکہ کی آبادی کا پچاس فی صد سے زیادہ حصہ بینکوں کا مقروض ہے۔ یہاں ہر آدمی کے پاس بینک کا کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے۔ اس سے وہ کوئی بھی چیز ادھار لے سکتا ہے ــــ کار، ٹیلی وژن مکان وغیرہ وغیرہ۔ اس سہولت کی وجہ سے ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنا معیار زندگی بڑھائے۔ چنانچہ ہر آدمی اپنی حقیقی آمدنی سے آگے بڑھ کر زندگی گزار رہا ہے۔ وہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ قرض پر گھر بناتا ہے جو اکثر لکڑی کے ہوتے ہیں۔ وہ گھر کے اندر ہر قسم کے تعیش کے سامان جمع کرتا ہے۔ یہ تمام قرضے سودی قرضے ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آبادی کا بیشتر حصہ بینکوں کا مقروض ہے۔ وہ ساری عمر ان کے سود ادا کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتا ہے۔

خود امریکی حکومت کا حال اس سے مختلف نہیں۔ ڈالر کی برتری قائم رکھنے کے لیے امریکی حکومت ڈالر پر بہت بڑھی ہوئی شرح سود دیتی ہے تاکہ لوگ اس کے بینکوں میں اپنا ڈالر جمع کریں۔ چنانچہ زیادہ سود کا لالچ دے کر امریکہ دنیا بھر کا ڈالر اپنے یہاں جمع کر لیتا ہے۔ اس طرح امریکی اقتصادیات میں زبردست کثرت نظر آتی ہے مگر یہ کثرت سراسر مصنوعی ہے۔ اگر دنیا بھر کے لوگ امریکی بینکوں سے اپنا ڈالر واپس لے لیں تو امریکہ اچانک دیوالیہ ہو جائے گا۔

15 نومبر کو جمعہ کا دن تھا۔ ہوٹل کے ایک مخصوص کمرہ میں اجتماع کے مسلم شرکار اکٹھا ہوئے اور جمعہ کی نماز ادا کی۔ ڈاکٹر عصفوری (Dr. Z. Asfoury) نے نماز پڑھائی۔ وہ مصری ہیں اور لندن میں رہتے ہیں۔ انھوں نے فرش پر کھڑے ہو کر صرف ایک خطبہ دیا۔ درمیان میں بیٹھے نہیں۔ خطبہ میں عربی زبان کی اہمیت پر زور رہتا۔ انھوں نے کہا کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو صرف ایک زبان (عربی زبان) اختیار کر لینا چاہیے ۔ ایک خطبہ کے بعد انھوں نے نماز پڑھائی تو اس میں پہلی رکعت میں قل ھو اللہ کی تلاوت کی اور دوسری رکعت میں الم نشرح کی۔ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں کی ۔ ہندوستان میں کوئی شخص اس طرح نماز پڑھائے تو تمام نمازی کہہ اٹھیں گے کہ نماز نہیں ہوئی، اس کو دہراؤ۔ مگر یہاں کوئی شخص کچھ نہ بولا۔ نماز ادا کرنے کے بعد کچھ لوگ سنتوں میں مشغول ہوگئے،

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page