Alcoholic beverages will not be provided
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۴۴
نظر آئے ۔ تصویر میں تلوار کو توڑ کر ہلی بنانا کتنا آسان ہے اور عملی واقعہ میں تلوار کو توڑ کر بل بنانا کتنا مشکل ۔
نیویارک کی غیر معمولی وسعت کے لحاظ سے اس کی اندرونی سڑکیں تنگ نظر آئیں ۔ دونوں طرف انتہائی اونچی عمارتوں کی قطار کے درمیان اس کی سڑکیں گلیوں کی طرح معلوم ہوتی ہیں۔ نیویارک اپنی انتہائی اونچی عمارتوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ عمارتیں ضرورت کی پیداوار ہیں۔ لوگوں کے لیے افقی اضافہ (Horizontal growth) کا موقع نہ تھا اس لیے انھوں نے (Vertical growth) عمودی اضافہ کا عمارتی طریقہ اختیار کر لیا ۔ تاہم یہ طریقہ اس لیے ممکن ہو سکا کہ نیویارک کی زمین بیشتر چٹانی ہے ۔ دہلی کی جامع مسجد ایک چٹان پر بنائی گئی ہے ۔ یہی معاملہ نیویارک کا ہے۔ نیویارک کی زمین کی سطح اگر چٹانی نہ ہوتی تو یہاں اتنی اونچی عمارتیں کھڑی کرنا ممکن نہ ہوتا ۔ نیویارک کی امپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی ۱۰۲ منزلیں ہیں ۔ اس کی تعمیر میں ۶۰ ہزار ٹن لوہا استعمال ہوا ہے ۔ اس میں ۷۳۰ سیڑھیاں ہیں ۔ تاہم لفٹ کے ذریعہ آدمی صرف تین منٹ میں ۱۰۲ منزل پر بہو پہنچ جاتا ہے۔ البتہ اس کے لیے اسے تین لفٹ بدلنی پڑتی ہے ۔ ایک زمانہ میں امپائر اسٹیٹ بلڈنگ دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ سمجھی جاتی تھی ۔ مگر اب اس سے بھی زیادہ اونچی بلڈنگیں تیار ہو گئی ہیں۔ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت107منزلہ ہے ۔ شکاگو کے سیرس ٹاور (Sears Tower) کی ۱۱۰ منزلیں ہیں ۔ وغیرہ ۔
نیویارک کی اونچی بلڈنگوں کے بارے میں بہت سے لطیفے مشہور ہیں ۔ مثلاً ایک لطیفہ ہے ہے کہ ایک آدمی ایک اونچی بلڈنگ میں آیا۔ اس کو اوپر جانا تھا ۔ جب وہ بلڈنگ کی لفٹ کے پاس پہونچا تو وہاں یہ نوٹس لگا ہوا تھا :
Complaints department on the 45th floor. Lift out of order: please use the stairs. شکایت کا شعبہ ۴۵ ویں منزل پر ہے۔ لفٹ کام نہیں کر رہی ہے ۔ براہ کرم سیڑھیاں استعمال کریں ۔
۱۸ نومبر کی شام کو اسمبلی کی ایک نشست نیویارک شہر میں ہوئی ۔ یہ نشست میٹرو پولیٹن
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues