Al-Risala · March 1986 · page 45

Alcoholic beverages will not be provided

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۴۵

باپٹسٹ چرچ میں تھی۔ یہاں اچاریہ سوشیل منی کمار اور ڈاکٹر جوزف پیک وغیرہ کی تقریریں ہوئیں۔ تقریر کے دوران زبردست تالیاں بجتی رہیں۔ کارروائی کے آخر میں "قرآت " کا پروگرام تھا۔ انگریزی انجیل کا ایک حصہ نہایت تجوید کے ساتھ پڑھا گیا۔ انجیل کی یہ قرآت جس شخص نے کی اس کا تعارف ساری دنیا میں انجیل کے بہترین قاری (Best Gospel singer of the world) کی حیثیت سے کرایا گیا۔ پہلے ایک شخص نے قرآت کی۔ اس کے بعد چار آدمیوں نے مل کر انجیل کا ایک حصہ کورس کی شکل میں پڑھا۔

اسمبلی کے اجتماع (امریکا نا ہوٹل) میں ہر مذہب کے نمائندے روزانہ اپنے مذہب کی مقدس کتاب کی تلاوت کرتے تھے۔ 19 نومبر کو منی سوشیل کمار نے جین مذہب کی مقدس کتاب کی تلاوت کی۔ اسی طرح بدھ ازم ، ہندو ازم، سکھ ازم، یہودیت، زرتشت وغیرہ کی مقدس کتابیں پڑھی گئیں۔ ان قرآتوں کو سن کر میرے ذہن نے ان کا مقابلہ قرآن کی قرآت سے کیا۔ اس مقابلہ میں قرآن کی قرآت اتنی اعلیٰ اور جاذب نظر آئی کہ دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ دوسری تمام کتابوں کے الفاظ انسانی الفاظ ہیں اور قرآن کے الفاظ خدائی الفاظ۔ اس کی وجہ سے قرآن کے الفاظ میں ایک عجیب عظمت اور جاذبیت پیدا ہوگئی ہے جو کسی دوسری مذہبی کتاب میں موجود نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن ساؤنڈ آرٹ (Sound art) کا ایک نادر نمونہ ہے۔ دنیا کی کوئی بھی کتاب اس معاملہ میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں ایک مؤثر دعوتی طریقہ یہ بھی ہے کہ ایسے ٹیپ تیار کیے جائیں جن میں مختلف مذہبی کتابوں کی قرآت ریکارڈ کی گئی ہو۔ ہر مذہب کی کتاب کی قرآت اسی مذہب کے قاری کے ذریعے کرائی جائے۔ اور پھر اس میں قرآن کی قرآت ایک اچھے قاری سے کرا کر شامل کی جائے۔ یہ کام اگر ویڈیو کیسٹ پر کرایا جائے تو اور بھی اچھا ہے تاکہ سننے والے یہ بھی دیکھیں کہ جس مذہبی کتاب کی قرآت ہے اس کو اسی مذہب کا ایک ماہر آدمی پڑھ رہا ہے۔ اگر اس طرح کے ویڈیو کیسٹ یا ریکار ڈ تیار کرائے جائیں اور ان کو جگہ جگہ سنایا جائے تو صرف زبان اور آواز کا تقابل لوگوں کو یہ بتانے کے لیے کافی ہوگا کہ کون سی کتاب انسانی کتاب ہے اور کون سی کتاب خالص خدائی کتاب۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page