ناقص تشریح
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۲
ناقص تشریح
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں (الذاریات ۵۶) اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے ایک مشہور مصنف لکھتے ہیں : "عبادت کا لفظ اس آیت میں محض نماز روزے اور اسی نوعیت کی دوسری عبادات کے معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اس کا مطلب یہ لےلے کہ جن اور انسان صرف نماز پڑھنے اور روزے رکھنے اور تسبیح و تہلیل کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ یہ مفہوم بھی اگر چہ اس میں شامل ہے مگر یہ اس کا پورا مفہوم نہیں ہے۔ اس کا پورا مفہوم یہ ہے کہ جن اور انسان اللہ کے سوا کسی اور کی پرستش ، اطاعت ، فرمانبرداری اور نیاز مندی کے لیے پیدا نہیں کیے گیے ہیں۔ ان کا کام کسی اور کے سامنے جھکنا ، کسی اور کے احکام بجالانا ، کسی اور سے تقویٰ کرنا، کسی اور کو اپنی قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھنا ، اور کسی دوسری ہستی کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلانا نہیں ہے۔ " مذکورہ تشریح میں عبادت کو چار چیزوں کا مجموعہ بتایا گیا ہے ــــــــ پرستش ، اطاعت ، فرمانبرداری نیاز مندی ۔ محترم مصنف کے نزدیک یہ عبادت کا پورا مفہوم" ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ پورا مفہوم اس کا صرف ناقص مفہوم ہے ۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ محبت نام ہے چار چیزوں کا ؛ دل سے چاہنا ، ملاقات کرنا، باتیں کرنا ، ایک ساتھ کھانا ۔ تو اس کو محبت کا ناقص مفہوم کہا جائے گا نہ کہ اس کا پورا مفہوم۔ کیوں کہ محبت چار چیزوں کا مجموعہ نہیں۔ محبت اصلاً صرف ایک چیز کا نام ہے اور وہ دل سے چاہنا ہے۔ اس کے سوا جو چیزیں ہیں وہ محبت کے مظاہر ہیں نہ کہ محبت کے مجموعہ کے چار مساوی اجزاء ۔
اسی طرح عبادت اصلاً صرف ایک چیز کا نام ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ آدمی حقیقی معنوں میں اپنے رب کا پرستار بن جائے ۔ بقیہ جو چیزیں شریعت میں ہیں وہ اسی اصل عبادت کے مظاہر ہیں۔ وہ اس اصل عبادت کے پیدا ہونے کے بعد لازمی نتیجہ کے طور پر آدمی کی زندگی میں ظہور کرتی ہیں۔ اگر پرستاری ہوگی تو بقیہ چیزیں بھی ہوں گی ، اور اگر پرستاری نہیں ہوگی تو یقینی طور پر بقیہ چیزیں بھی نہیں ہوں گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تشریح نے عبادت کے مفہوم کو محدود کر دیا ، اگر چہ نادانی کی بنا پر محترم شارح یہ سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اس کو جامع اور مکمل بنایا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues