Al-Risala · April 1986 · page 3

اصل اور تفصیل

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۳

اصل اور تفصیل

بیج ایک بہت چھوٹا دانہ ہے ۔ اس سے ایک بہت بڑا درخت نکلتا ہے ۔ اس بیج اور اس درخت میں جو باہمی نسبت ہے وہ محدود اور مکمل کی نہیں ہے بلکہ اصل اور تفصیل کی ہے ۔ درخت اپنے بیج کی تفصیل ہے نہ کہ اس نے محدود کو مکمل کیا ہے ۔

یہی معاملہ فکر اور عمل کا ہے ۔ فکر آدمی کے اندر ہے اور اس کے اعمال بے شمار صورتوں میں اس کے باہر پھیلے ہوئے ہیں ۔ مگر انسان کے فکر اور انسان کے عمل کے درمیان محدود اور مکمل کی نسبت نہیں ۔ یہاں دوبارہ اصل اور تفصیل کی نسبت ہے ۔ انسان کے پھیلے ہوئے اعمال اس کے فکر کی تفصیل ہیں نہ کہ وہ محدود کو مکمل کر رہے ہیں ۔

اسی طرح خدا کے دین کی بھی ایک اصل ہے ، اور ایک اس کی تفصیل ۔ خدا کے دین میں اصل کی حیثیت توحید کو حاصل ہے ۔ اس کے سوا جو دینی احکام ہیں وہ سب اسی اصل کی تفصیل ہیں۔ عقیدہ توحید اور احکام شریعت میں اصل اور تفصیل کی نسبت ہے نہ کہ محدود اور مکمل کی نسبت ۔ یہ عقیدہ کی تصغیر ہے کہ اس کو محدود اور مسائل و احکام کو مکمل کہا جائے ۔

قرآن میں بہ مشکل چند سو احکامی آیتیں ہیں ۔ مگر فقہ کو دیکھیے تو اس میں آپ کو کئی لاکھ احکام ملیں گے ۔ کیا قرآن محدود ہے اور فقہ اس کے مقابلہ میں مکمل ہے ۔ نہیں ۔ قرآن اور فقہ کا معاملہ بھی وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ۔ قرآن اصل ہے اور فقہ اس کی تفصیل ہے ۔

ایمان و اسلام کو قرآن میں درخت سے تشبیہہ دی گئی ہے ۔ اسلام سب سے پہلے دل کی زمین میں جڑ پکڑتا ہے ، اس کے بعد وہ آدمی کی خارجی زندگی میں پھیلتا ہے ۔ اسی طرح اسلام پہلے فرد کے اندر قائم ہوتا ہے ، اس کے بعد وہ اجتماع میں ظہور کرتا ہے ۔ گویا انفرادی دین اصل ہے اور اجتماعی دین اس کی تفصیل ۔

یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ خدا کی دنیا میں ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان اصل اور تفصیل کی نسبت ہے نہ کہ محدود اور مکمل کی نسبت ۔ اس دنیا میں جس نے بیج لگایا اس نے درخت لگایا ، اور جس نے درخت لگایا اس نے کچھ بھی نہیں لگایا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues

Printed page