Al-Risala · April 1986 · page 5

خود ساز، تاریخ ساز

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۵

ایک آیت

یا ایھا الذین امنوا ان جاءکم فاسق اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے بنبأ فتبینوا ان تصیبوا قوماً بھجالة پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کرو، ایسا نہ ہو کہ تم فتصبحوا علی ما فعلتم ندمین کسی قوم کو نادانی سے ضرر پہنچا دو، پھر تم کو اپنے (الحجرات ۶) کیے پر پچھتانا پڑے۔

یہ قرآن کی ایک آیت ہے۔ اگر کوئی شخص ایسا قرآن چھاپے جس میں اس کی یہ آیت حذف کر دی گئی ہو تو تمام دنیا کے مسلمان اس کو کافر قرار دیں گے اور مطالبہ کریں گے کہ اس کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ مگر یہی مسلمان قرآن کی اس آیت کو عملاً اپنی زندگیوں سے حذف کیے ہوئے ہیں اور کوئی نہیں جو اس کے خلاف ہنگامہ کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہو۔

قوم کے اصاغر ہوں یا قوم کے اکابر آج سب کا یہ حال ہو رہا ہے کہ جو کچھ سنتے ہیں اس کو مان لیتے ہیں کوئی نہیں جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ وہ جس بات کو سنے پہلے اس کی تحقیق کرے۔ اس کے بعد اس کو بیان کرے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہو رہا ہے کہ کسی کے خلاف جو بات بھی سنی اس کو فوراً مان لیا اور اس طرح بیان کرنا شروع کر دیا جیسے کہ وہ بالکل واقعہ ہے۔

مسلمان قرآن کے محفوظ کتاب ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کا فخر خدا کے یہاں کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ یہ بلاشبہ صحیح ہے کہ قرآن لفظی اعتبار سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ مگر اس حفاظت کا کریڈٹ مسلمانوں کو ملنے والا نہیں۔ کیو نکہ یہ حفاظت خدا کی طرف سے ہے۔ قرآن کی لفظی حفاظت براہ راست خدا کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ مگر اس کی عملی حفاظت مسلمانوں کو کرنا تھا ۔ اور مسلمان یہاں ناکام ہو کر رہ گئے۔ آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اپنے ایک ہم قوم یا ہم وطن کے خلاف کوئی بات سنیں تو وہ فوراً اس کو درست مان لیتے ہیں۔ وہ اس کی بالکل ضرورت نہیں سمجھتے کہ وہ اس کی تحقیق کریں اور تحقیق کے بعد اس کے بارہ میں اپنی رائے قائم کریں۔ کسی قوم کا یہ رویہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا ہے نہ کہ اس کی رحمت کو کھینچنے والا ۔ اس عمل کے ساتھ مسلمان اگر "تحفظ قرآن" کا نعرہ لگا رہے ہوں تو ایسا نعرہ صرف ان کے جرم کو بڑھائے گا، وہ کسی اعتبار سے بھی اس کو کم کرنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues

Printed page