جھوٹا یقین
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۶
جھوٹا یقین
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مخالفین کے ساتھ جو جنگیں پیش آئیں ان میں سے ایک جنگ وہ تھی جس کو جنگ احد کہا جاتا ہے۔
اس جنگ میں بعض وجوہ سے مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت زخمی ہو گئے ۔ مسلمانوں کی فوج منتشر ہو گئی ۔ روایات میں آتا ہے کہ جب مخالفین نے دیکھا کہ ان کی فتح مکمل ہو چکی ہے تو ان کے سردار ابو سفیان (جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے ) ایک ٹیلہ پر چڑھے اور مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا :
لنا عُزّى ولا عُزّى لَکم ہمارے پاس عُزّیٰ ہے اور تمہارے پاس کوئی عُزّیٰ نہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو صحابہ سے فرمایا کہ تم اس کا جواب اس طرح دو : اَللہُ مَولانا وَ لا مَولى لَکم اللہ ہمارا کار ساز ہے اور تمہارا کوئی کارساز نہیں عُزّیٰ قدیم عرب کا ایک بڑا بت تھا۔ عرب کے مشرکین کو اس بت پر زبردست یقین تھا۔ اگر انھیں یقین نہ ہوتا تو اس نازک موقع پر ان کے سردار کی زبان سے یہ جملہ نہ نکلتا کہ لَنا عُزّى وَ لا عُزّیٰ لَکم ۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک جھوٹی چیز پر بھی ایک آدمی کو کتنا گہرا یقین ہو سکتا ہے۔ عُزّیٰ محض ایک پتھر کا مجسمہ تھا۔ اس سے زیادہ وہ اور کچھ نہ تھا۔ مگر قدیم عرب کے مشرکین کو یقین تھا کہ اس عُزّیٰ کی وجہ سے ان کو مسلمانوں کے اوپر فتح حاصل ہوئی ہے۔ عُزّیٰ کی اہمیت ان کے نزدیک پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کرام سے بھی زیادہ تھی۔ جو فخر آج مسلمانوں کو اپنے پیغمبر اور اصحاب پیغمبر پر ہے وہی فخر اس وقت کے مشرکین کو اپنے عُزّیٰ پر تھا۔
جھوٹا یقین ہر دور میں انسان کا سب سے بڑا مرض رہا ہے ۔ وہ آج کے لوگوں میں بھی اتنا ہی عام ہے جتنا کہ وہ پچھلے زمانہ کے لوگوں میں عام تھا۔ سچائی کو اس دنیا میں صرف وہ شخص پا تا ہے جو جھوٹے یقین کے خول کو توڑ کر اس کے باہر آ سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues