حرص اور قناعت
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴
حرص اور قناعت
پاکستان کے ڈاکٹر جاوید نے لکھا ہے کہ وہ امریکہ گئے۔ وہاں وہ ایک کم درد پتی سے ملے کہ وہ پتی نے ان کو اپنے ایک خاص مکان میں ملاقات کے بلایا ۔ یہ مکان سمندر کے کنارے بنا ہوا تھا۔ جدید طرز کا وسیع مکان ، اس کے آگے شاندار لان ، اس کے آگے حدِ نظر تک پھیلی ہوئی سمندر کی لہریں۔ چاروں طرف عیش اور خوبصورتی کے مناظر۔ اس ماحول میں مہمان اور میزبان دونوں مکان کے سامنے لان میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔
ڈاکٹر جاوید کہتے ہیں کہ میں اس ماحول میں گم تھا۔ مجھے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ میں جنت کی دنیا میں بیٹھا ہوا ہوں ۔ مجھ پر محویت کا عالم طاری تھا۔ امریکی کر درد پتی بھی چپ چاپ کسی سوچ میں مبتلا تھا۔ اچانک امریکی نے میری طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا : مسٹر جاوید ، میں چاہتا ہوں کہ امریکہ کو چھوڑ کر پاکستان چلا جاؤں اور زندگی کے بقیہ دن وہیں گزاروں ۔
" کیوں " ، ڈاکٹر جاوید نے حیرت کے ساتھ پوچھا ۔
" یہ سب چیزیں مجھے کاٹتی ہیں۔ مجھے ایک منٹ کے لیے بھی سکون حاصل نہیں "
یہ واقعہ دنیا کی حقیقت کو بتا رہا ہے ۔ دنیا کا حال یہ ہے کہ جو شخص پائے ہوئے نہ ہو وہ سمجھتا ہے کہ پانے کا نام خوشی ہے۔ مگر جو شخص پالے وہ محسوس کرتا ہے کہ پا کر بھی اسے خوشی حاصل نہیں ہوئی۔ سب کچھ پا کر بھی اس نے خوشی کو نہیں پایا ۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی نام ہے چاہی ہوئی چیز کو نہ پانے کا۔ جو لوگ اس راز کو جان لیں وہ نہ ملنے پر بھی اس طرح مطمئن رہتے ہیں جیسے کہ انھوں نے سب کچھ پا لیا ہو۔ اور جو لوگ اس راز کو نہ جانیں وہ ہمیشہ اپنی چاہی ہوئی چیز کو پانے کا خواب دیکھتے رہتے ہیں اور کبھی بھی اس کو نہیں پاتے۔ کیونکہ پانے کے بعد جلد ہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ وہ چیز نہیں جس کو انھوں نے پانا چاہا تھا۔ وہ ایک نہ ملنے والی چیز کے غم میں پڑے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں ۔
مذہب کی اصطلاح میں پہلی چیز کا نام قناعت ہے اور دوسری چیز کا نام حرص۔ انھیں دو لفظوں میں زندگی کی ساری کہانی چھپی ہوئی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues