جدید تحقیقات
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۱۶
یہی وہ فطری حقیقت ہے جس کی رعایت اسلامی تعلیمات میں رکھی گئی ہے۔ اس بنا پر اسلامی شریعت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو تا کہ وہ بے حوصلہ نہ ہوں ، تا کہ وہ دل شکنی سے محفوظ رہیں اور زندگی میں اپنے مخصوص فرائض کو بخوبی طور پر ادا کر سکیں ۔ عورتیں لوہے کی مانند نہیں ہیں کہ ان پر ٹھونک پیٹ کا کوئی اثر نہ پڑے، وہ پسلی کی مانند ہیں۔ وہ فطرہ جیسی ہیں ویسی ہی انھیں رہنے دو۔ اگر تم ان کے ساتھ لوہے جیسا برتاؤ کرو گے تو تم ان کی شخصیت کو توڑ دو گے۔ خلاصه سورہ نساء کی آیت (خلق منها زوجها) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس جنس سے آدم کو بنایا، اسی جنس سے اس نے آدم کے جوڑے (حوا) کو بھی بنایا تا کہ دونوں میں موافقت رہے۔ اگر ایسا ہوتا کہ دونوں دو الگ الگ جنس ہوتے ، مثلاً ایک آگ سے بنایا جاتا اور دوسرا مٹی سے، تو دونوں کے درمیان باہمی توافق نہ ہوتا۔ پھر نہ خاندانی زندگی میں سکون پایا جاتا اور نہ یہ ممکن ہوتا کہ دونوں مل کر مشترکہ جدوجہد سے تمدن کی تعمیر کریں ۔
حدیث (ضلع) میں عورتوں کے بارے میں جو بات ارشاد ہوئی ہے اس کا مقصد تمثیل کی زبان میں یہ بتانا ہے کہ عورتوں کی مخصوص فطری ساخت کی بنا پر ضروری ہے کہ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار مختلف انداز سے یہ نصیحت فرمائی ہے اور خود اپنی پوری زندگی میں اس کا مکمل اہتمام کیا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں رات کی نمازوں میں شریک ہوتی تھیں۔ بعض اوقات ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بچے بھی ہوتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر چہ نماز کی اقامت کا بہت خاص اہتمام فرماتے تھے، لیکن خواتین کے ساتھ آپ کی رعایت کا یہ حال تھا کہ نماز میں اگر کبھی چھوٹے بچے کے رونے کی آواز آ جاتی تو آپ نماز کو جلد ختم کر دیتے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : انی لاقوم في الصلوة اريد ان اطول فيها میں مسجد میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں، یہ چاہتا فاسمع بكاء الصبي فاتجوز في صلاتي ہوں کہ اس کو لمبا کروں ، پھر میں بچہ کے رونے کی كراهية ان اشق على أمه آواز سنتا ہوں تو میں اپنی نماز کو مختصر کر دیتا ہوں ، اس بخاری ، کتاب الصلوة ) اندیشہ کی بنا پر کہ میں اس کی ماں کو تکلیف دوں گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues