Al-Risala · April 1986 · page 24

خدا کی سنت

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۲۴

سفرنامه امریکہ (دوسری قسط)

نیویارک کی ایک سڑک سے ہم رات کے وقت گزر رہے تھے۔ وہاں ایک روشن اشتہار نظر آیا۔ یہ جاپانی کار ٹویوٹا کا اشتہار تھا۔ یہ اشتہار انتہائی کامیاب اور انتہائی خوبصورت انداز میں بنایا گیا تھا۔ نیویارک کی سڑکوں پر امریکی کاروں (بیوک ، فورڈ وغیرہ) کے اشتہار بھی نظر آئے مگر وہ جاپانی اشتہار کے مقابلہ میں بہت پھیکے تھے۔ امریکی اشتہار محض اوسط درجہ کے اشتہار تھے جب کہ جاپانی اشتہار آرٹ کا بہترین نمونہ تھا۔

اسی طرح اقوام متحدہ میں ہم نے دیکھا کہ وہاں آنے والے زائرین کی رہنمائی کے لیے بہت سی خاتون گائیڈ مقرر ہیں۔ ہماری جماعت کے لیے جو گائیڈ متعین کی گئی وہ ایک جاپانی لڑکی تھی۔ وہ اس قدر سرگرم تھی اور اس قدر کامیابی کے ساتھ شستہ انگریزی میں تمام چیزوں کا تعارف کرا رہی تھی کہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ انسان ہے یا کوئی مشین۔ جاپانی لوگوں کی یہ عام خصوصیت ہے کہ وہ جس کام کو کرتے ہیں اس کو اعلیٰ ترین معیار پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے انھیں کوئی چیز موجودہ دنیا میں کامیاب ہونے سے روک نہیں سکتی ۔ خواہ قدرتی عطیات میں وہ سب سے کم ہوں ، خواہ بموں کی بارش سے انھیں کھنڈر بنا دیا گیا ہو۔ ہوٹل کی ایک منزل پر ایک خوبصورت بورڈ لگا ہوا تھا جس پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا : Assembly of the World's Religions BOOK DISPLAY یہاں نہایت سلیقہ کے ساتھ مختلف مذہبی کتابوں کی نمائش کی گئی تھی۔ اس میں اسلامی مرکز کی اردو ، عربی ، اور انگریزی مطبوعات بھی رکھی گئی تھیں ۔ بعض غیر مسلم صاحبان نے اس نمائش میں اسلامی مرکز کی کتابیں دیکھیں تو اس کے بعد وہ ہم سے ملے اور کتابوں کو حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

افریقہ ، امریکہ ، یورپ سے آئے ہوئے مسلمانوں کو انگریزی الرسالہ دکھایا گیا۔ انھوں نے اس کو بہت پسند کیا۔ یہ لوگ ان علاقوں میں جو دعوتی کام کر رہے ہیں اس کے لیے انھیں موزوں لٹریچر نہیں ملتا۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ ہمارے دعوتی کام میں زبردست مددگار ثابت ہوگا۔ ایک صاحب کینیا سے آئے تھے جو وہاں کی یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں اور

‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues

Printed page