Al-Risala · April 1986 · page 26

You are doing a wonderful work

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۲۶

کی طرف سے سامنے آئے ۔

اس موقع پر ہر مذہب کو عبادت کے لیے ہال دیے گیے تھے ۔ چنانچہ ایک ہال ”مسجد“ کے لیے بھی تھا۔ کانفرنس میں مختلف ملکوں کے تقریباً ۸۰ مسلمان شریک تھے۔ ان کی ایک قابلِ لحاظ تعداد نماز کے وقت مسجد میں جمع ہوجاتی۔ ان حضرات نے اپنے اپنے حلقہ میں ہونے والے مباحثہ کی رپورٹ دیتے ہوئے ایک بات مشترک طور پر کہی۔ وہ یہ کہ دوسرے مذاہب پر گفتگو کے وقت لوگ سنجیدہ رہتے ہیں۔ مگر جہاں اسلام کا ذکر آیا وہ جارحانہ انداز اختیار کرلیتے ہیں۔ خود ہمارے حلقہ بحث میں بھی یہ صورت پیش آئی۔ تاہم میرا خیال ہے کہ اس کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ خود مسلمانوں پر ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اسلام کا تعارف زیادہ تر سیاسی انداز سے کرایا ہے۔ اگر اسلام کا تعارف فطری انداز میں کرایا جائے تو اس قسم کا رد عمل اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔

ایک مجلس میں میں نے دیکھا کہ ایک مسلمان پروفیسر نے اسلام کو ”ایک کامل ریاستی نظام“ کے طور پر پیش کیا۔ اس کے بعد غیر مسلم حاضرین نے فوراً پاکستان، ایران، عراق اور دوسرے ملکوں کی مثالیں دے کر کہنا شروع کیا کہ وہاں ایسا اور ایسا ہورہا ہے تو کیا اسلام کا ریاستی نظام یہی ہے۔ پھر جب منفی ذہن پیدا ہوا تو اس کے بعد دوسرے غیر متعلق اعتراضات بھی شروع ہوگئے جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اسلام کو آخرت کے انداز میں پیش کیا جائے نہ کہ سیاست اور حکومت کے انداز میں، جیسا کہ وہ فی الواقع ہے۔

آدمی ہمیشہ نظریہ کی تصدیق (Verification) چاہتا ہے۔ جب آپ اسلام کا تعارف سیاسی نظام کے انداز میں کرائیں تو قدرتی طور پر وہ اس کی تصدیق کے لیے موجودہ مسلم ملکوں کو دیکھتا ہے۔ اور جب ان ملکوں میں وہ کوئی بہتر نظام نہیں پاتا تو وہ اس کی صداقت کے بارہ میں شک میں پڑ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب آپ اسلام کا تعارف فطرت کے انداز میں کرائیں تو آدمی اس کی تصدیق کے لیے انسانی فطرت کو دیکھتا ہے اور یہاں وہ فوراً اس کی تصدیق پالیتا ہے۔ کیوں کہ انسانی فطرت کا خالق خدا ہے اور اس نے اس کو سراسر حق کی بنیاد پر بنایا ہے۔ فطرت کے انداز میں پیش کیا ہوا اسلام خود آدمی کے اپنے دل کی سطح پر بلا تاخیر اپنی تصدیق پارہا ہے۔ جب کہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues

Printed page