You are doing a wonderful work
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۳۱
میں داخل ہوئے تو چیکنگ کے ذمہ داروں نے اس کو کاٹنے کے لیے قینچی نکالی۔ میں بہت گھبرایا کہ اگر انھوں نے رسی کاٹ ڈالی تو یہاں ایئرپورٹ پر دوسری رسی باندھنے کے لیے کہاں ملے گی ۔ ہم نے ان کو منع کیا مگر وہ نہیں مانے انھوں نے کہا، آپ گھبرائیے نہیں۔ ہم اس کو کاٹنے کے بعد دوبارہ ٹیپ کردیں گے ۔ چنانچہ انھوں نے رسی کاٹ کر پھینک دی اور اس کو دیکھنے کے بعد دوبارہ اوپر سے کافی مقدار میں ٹیپ لگا کر پہلے سے زیادہ بہتر پیک کر دیا۔
مجھے یاد آیا کہ اسی قسم کا واقعہ یکم مارچ ۱۹۸۴ کو میرے ساتھ ایک مسلم ملک کے ایئرپورٹ پر پیش آیا تھا۔ وہاں بھی ہمارے پاس کتابوں کا ایک بڑا پیکٹ تھا۔ چیکنگ کے عملے نے اس کی رسیاں کاٹنے کے لیے قینچی نکالی ۔ ہم نے بہت کہا کہ اس میں صرف دینی کتابیں ہیں اور کچھ نہیں۔ ہم نے یہ بھی کہا کہ آپ نے رسیاں کاٹ دیں تو اس کو دوبارہ باندھنا ہمارے لیے سخت مشکل ہوگا۔ مگر انھوں نے کچھ نہیں سنا اور ساری رسیاں کاٹ ڈالیں۔ اس کے بعد انھوں نے نہ پیکٹ میں دوبارہ ٹیپ لگایا اور نہ کسی دوسرے طریقے سے ہماری مدد کی ۔ بڑی مشکل سے ہم نے رسیوں کو جوڑ جوڑ کر پیکٹ کو دوبارہ باندھا۔ کتنا فرق ہے ایک قوم اور دوسری قوم میں ۔
امریکہ میں ہندوستان اور پاکستان جیسے ملکوں کے بہت سے لوگ رہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے یہاں کی شہریت بھی لے لی ہے ۔ تاہم ان میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو یہاں کے سماج میں پوری طرح ضم ہو گئے ہوں ۔
یہ لوگ بڑے عجیب عجیب مسائل سے دوچار ہیں۔ مثلاً اپنے ملکوں میں وہ عادی ہیں کہ وہ جس طرح چاہیں اپنے بچوں کی نگرانی کریں، حتیٰ کہ وہ انھیں تنبیہ کر سکیں ۔ مگر یہاں وہ اس سلسلہ میں اپنے آپ کو بے بس پاتے ہیں۔ یہاں کا ایک باپ اپنے بچے کو تنبیہ نہیں کر سکتا۔ اگر وہ تنبیہ کرے تو بچے کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے باپ کے خلاف پولیس کو بلا سکے۔ یہاں پولیس کا ایک خاص دستہ مقرر ہے جس کا کام یہ ہے کہ وہ بچوں کو ستائے جانے سے بچائے ۔ اس کو یہاں کی زبان میں ”چائلڈ ابیوز“ کہتے ہیں۔ اس کا ایک مخصوص ٹیلی فون نمبر ہے۔ کوئی بچہ اس نمبر پر رنگ کرکے فوراً اس کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتا ہے ۔ ایسے واقعات معلوم ہوئے کہ باپ نے بگڑ کر بچے کو مارنا چاہا تو بچے نے فوراً کہا : Don't touch me. I will call Child Abuse.
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues