Al-Risala · April 1986 · page 32

You are doing a wonderful work

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۳۲

یعنی مجھ کو چھوڑو امت ورنہ بچوں کی پولیس کو ٹیلی فون کر دوں گا۔

اس سفر میں آمد و رفت کو ملا کر دس دن گزرے ۔ میرا یہ سفر گویا ساری دنیا کی طرف سفر تھا۔ اس سفر میں میں نے تقریبا دنیا کی ہر قوم کو دیکھا اور تقریبا ہر عقیدہ کے لوگوں کا تجربہ کیا۔ میرا آخری تاثر یہ تھا کہ موجودہ دنیا میں ہر چیز ہے مگر وہی ایک چیز نہیں جس کو انسانی فطرت سب سے زیادہ چاہتی ہے یعنی خدا کا سچا مذہب۔ مذہب کے جو ایڈیشن مذہب کے نمائندوں کے پاس ہیں اور جن کو وہ لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ سب کے سب بگڑے ہوئے مذہب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انسانی فطرت سے مطابقت نہیں کر پاتے۔

انسان ایک خدا چاہتا ہے اور مشترک نہ مذاہب اس کو کئی خداؤں کی عبادت کی طرف بلا رہے ہیں۔ انسان سادہ مذہب چاہتا ہے اور عیسائیت اس کو فلسفیانہ موشگافیوں والا مذہب دے رہی ہے۔ انسان اصولی مذہب چاہتا ہے اور یہودیت کے پاس انسان کو دینے کے لیے صرف نسلی مذہب ہے۔ انسان ایک بر تر خدا کی تلاش میں ہے اور ہندو ازم اس کو یقین دلا رہا ہے کہ تم خود اپنی ذات میں خدا ہو۔ انسان روحانی سطح پر خدا کو پانا چاہتا ہے اور مادی مذاہب اس کو سیاست اور حکومت کی سطح پر مذہب کا نسخہ پیش کر رہے ہیں ۔

یہاں مسلمان جدید انسان کو رہنمائی دے سکتے تھے۔ کیوں کہ ان کے پاس سچا خدائی مذہب بالکل محفوظ حالت میں موجود ہے۔ مگر یہاں بھی یہ مشکل ہے کہ اصل اسلام تو صرف کتاب میں ہے ۔ اور مسلمان عملاً جس مذہب کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ ان کی اپنی تعبیرات ہیں جو انھوں نے اصل خدائی دین میں تصرف کر کے بنائی ہیں۔ اصل اسلام تو بلا شبہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے مگر جس تعبیری اسلام کی مسلمان آج نمائندگی کر رہے ہیں وہ انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔ اس لیے خود اسلام اور انسانی فطرت کے درمیان بھی عملاً وہی عدم مطابقت پیدا ہو گئی ہے۔ جو دوسرے مذاہب اور انسانی فطرت کے درمیان پائی جاتی ہے ۔

آج سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اسلام کو کسی ملاوٹ کے بغیر اس کے حقیقی روپ میں انسان کے سامنے پیش کر دیا جائے ۔ اس کے بعد ساری انسانیت خدا کی رحمتوں کے سایہ میں آجائے گی۔ وما ذالك على الله بعزيز -

‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues

Printed page