You are doing a wonderful work
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۳۳
16 نومبر ۱۹۸۵ کو سورج نہیں دکھائی دیا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے کمرہ کے ایک طرف لگے ہوائے شیشہ سے باہر دیکھا تو ہر چیز سفید ہو رہی تھی۔ سڑکوں اور پارکوں میں ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بے حد سفید قسم کے روئی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اوپر سے گر رہے ہیں اور سڑکوں اور پارکوں پر ان کا صاف و شفاف فرش بچھا ہوا ہے درخت بھی ان سے ڈھکے ہوئے نظر آتے تھے معلوم ہو کہ برف گر رہی ہے۔ تاہم یہ وہ برف نہ تھی جس کے لیے ہمارے یہاں برف یا اولہ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہ اسنو (Snow) تھی۔ بچوں کے ہندوستان جیسے ملکوں میں اسنو نہیں گرتی اس لیے اردو زبان میں اس کے لیے کوئی لفظ بھی موجود نہیں۔ اس قسم کی اسنو میں نے پہلی بار روم میں اکتوبر ۱۹۷۶ میں دیکھی تھی اور دوسری بار ۱۶ نومبر ۱۹۸۵ کو نیو جرسی میں دیکھی۔
یہ اسنو سرد ملکوں کے لیے ایک عجیب نعمت ہے۔ یہاں کے کسان اسنو کے موسم سے کچھ پہلے زمین میں بیج بو دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کا انکھو انکل آتا ہے۔ آنکھوا نکلنے کے بعد جب اسنو گرتی ہے تو ان کے اوپر اس کی تہ جم جاتی ہے۔ اسنو چوں کہ روئی کی طرح بالکل نرم ہوتی ہے اس لیے وہ آنکھوا کو نقصان نہیں پہنچاتی اس کے بعد اسنو دھیرے دھیرے پگھلنا شروع ہوتی ہے اور فصل کو آہستہ آہستہ پانی پہنچاتی ہے۔ یہ ایک عجیب قسم کی قدرتی آب پاشی ہے جو سرد ملکوں کے کسانوں کے لیے من و سلویٰ کی نعمت سے کم نہیں۔ ایک ہندوستانی بزرگ امریکہ گئے۔ وہاں ایک روز انھوں نے ایک امریکی سے پوچھا: کیا آپ کے یہاں ملاوٹ کا دودھ (Adulterated Milk) بھی ملتا ہے۔ یہ سن کر امریکی کچھ دیر چپ رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کیا جواب دوں۔ کچھ دیر کے بعد وہ بولا : ہاں ، ہمارے یہاں بعض اسٹور ملاوٹ کا دودھ بھی تیار کرتے ہیں۔ وہ قدرتی دودھ میں بعض وٹامن کا اضافہ کرتے ہیں تاکہ اس کی غذائیت کو بڑھا سکیں۔ مذکورہ عمل کو انگریزی میں (Adulteration) نہیں کہا جاتا۔ اس کو (Enrichment) کہتے ہیں۔ مگر امریکی ذہن چوں کہ اس تصور سے خالی تھا کہ دودھ میں پانی ملا دیا جائے اس لیے اس نے اڈلٹریشن کے لفظ کو (Enrichment) کے معنی میں لیا۔ کتنا فرق ہے ہندوستان کے تاجر اور امریکہ کے تاجر میں۔ ڈاکٹر خورشید احمد صاحب سے ، نومبر کو تفصیلی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو اپنے مشن کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے افراد تیار کرنا چاہیے ۔ اس سلسلہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے سیرت سے متعلق ایک بات کہی جو انھیں کے اپنے الفاظ میں یہ تھی :
" حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کارنامہ عظیم ہے۔ لیکن ایک پہلو جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues