پل صراط کا منظر
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۱۷
پل صراط کا منظر
دنیا بھر میں چور کروڑوں ڈالر کا سامان دکانوں سے اٹھا لیتے ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے نیو یارک ایک فرم نے ایک کامیاب طریقہ دریافت کیا ہے، یہ چوری کی روک تکمہ ہے یہ ایک قسم کا مقناطیسی تار ہے جو بال کی طرح باریک ہوتا ہے۔ وہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا اور کسی بھی سامان کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے۔ جب ایک خریدار سامان کو باقاعدہ خریدتا ہے تو دکان کا ایک کلرک اس کو ایک خاص طرح کی مشین سے گزار کر اس کو غیر مؤثر بنا دیتا ہے ۔
نیویارک کے میگزین نیوز ویک (۴ نومبر ۱۹۸۵) میں یہ خبر دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ چوری سے دکان کا سامان اٹھانے والا آدمی جب ایسا سامان اٹھا تا ہے جس میں مذکورہ قسم کا زندہ برقی تار لگا ہوا ہو تو وہ دروازہ پر پہنچتے ہی پکڑ لیا جاتا ہے جہاں ایک مشین اس کو محسوس کر لیتی ہے اور فوراً الارم کی شکل میں اس سے آگاہ کر دیتی ہے :
Shoplifters making off with an item containing a live Electro Thread wire will be tripped up at the door, where a detector sounds an alarm. مذکورہ خبر پڑھتے ہوئے مجھے وہ خبر یاد آگئی جو قیامت کے بارے میں دی گئی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن تمام لوگ جہنم کے اوپر سے گزریں گے۔ پھر نیک لوگ بچ جائیں گے اور برے لوگ جہنم میں گرا دیے جائیں گے (مریم71)حدیث حدیث کے مطابق اس کی صورت یہ ہوگی کہ جہنم کے اوپر ایک پل ( پل صراط) ہوگا۔ اس سے تمام لوگ گزارے جائیں گے۔ اس پل کے دونوں طرف فرشتے ہوں گے۔ ان کے پاس آگ کے آنکس ہوں گے ۔ وہ اس سے انسانوں کو پکڑ کر کھینچ لیں گے اور ان کو دوزخ میں ڈال دیں گے (معهم كلاليب من نار يخطفون بها الناس ، تفسیر ابن کثیر ، الجزء الثالث ، صفحه ۱۳۲)
آخرت کی دنیا ابھی انسان کے لیے نہ دکھائی دینے والی دنیا ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو آج کی دنیا کے واقعات آئندہ آنے والی دنیا کے واقعات کو قابل فہم بنا رہے ہیں ۔ وہ آج کے تجربہ کی صورت میں کل کے تجربہ کی جھلک دکھارہے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues