جہیز کے بارہ میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۱۸
جہیز کے بارہ میں
شادی میں جہیز دینے کی رسم ہندوستانی مسلمانوں میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، یہ رسم ہندوستان اور پاکستان کے سوا دوسرے مسلم ملکوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔ برصغیر ہند کے مسلمانوں میں یہ رسم یقینی طور پر ہندؤوں سے آئی ہے۔ ہندو لوگ ، اپنے قدیم قانون کے مطابق ، بیٹی کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھے ، اس کی تلافی کے لیے ان کے یہاں یہ رواج پڑ گیا کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو زیادہ سے زیادہ دیا جائے ۔ چنانچہ وہ جہیز کے نام پر بیٹی کو اپنی دولت کا ایک حصہ دینے کی کوشش کرنے لگے۔
اسی ہندو طریقہ کی تقلید ہندوستان کے مسلمان بھی کر رہے ہیں۔ اسلام میں اگرچہ لڑکی کو وراثت میں باقاعدہ حصہ دار بنایا گیا ہے۔ مگر مسلمانوں نے عملی طور پر لڑکیوں کو اس شرعی حق سے محروم کر رکھا ہے۔ اس کی تلافی کے لیے انھوں نے اس ہندو طریقہ کو اختیار کر لیا ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو کافی سامان دے کر اسے خوش کر دیا جائے۔ جہیز حقیقتاً اسلام کے قانون وراثت سے فرار کی تلافی ہے جس کو پڑوسی قوم سے لے کر اختیار کر لیا گیا ہے۔
کچھ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ جہیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی صاحبزادی فاطمہ کا نکاح حضرت علی سے کیا تو ان کو اپنے پاس سے جہیز بھی عطا کیا۔ اس قسم کی بات دراصل غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیا اس کو کسی طرح بھی جہیز نہیں کہا جا سکتا۔ اور اگر اس کو جہیز کہا جائے تو ساری دنیا میں غالباً کوئی ایک مسلمان بھی نہیں جو اپنی لڑکی کو یہ پیغمبرانہ جہیز دینے کے لیے تیار ہو۔
وہ جہیز کیا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کو دیا۔ یہاں ہم اس کی روایت نقل کرتے ہیں :
اخرج البيهقى فى الدلائل عن علی انہ قال بجهز حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمة فی خميل وقربة و نے فاطمہ کو جہیز میں ایک چادر ، ایک مشکیزہ اور وسادة ادم حشوها اذخر (کنز العمال جلدے صفحہ ۱۳) ایک چمڑے کا تکیہ دیا جس میں اذخر گھاس کا بھراوتھا
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues