اسلامیت کیا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳
اسلامیت کیا ہے
لوگ کلمہ کے الفاظ دہراتے ہیں مگر ان کے کلمہ میں عرفانِ حق کی گہرائی نہیں۔ لوگ نماز پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں مگر ان کی نمازوں میں خشوع نہیں اور ان کے روزوں میں خوفِ خدا کی تڑپ نہیں۔ لوگ اپنے مومن ہونے پر فخر کرتے ہیں مگر ان کے ایمان نے ابھی تک انھیں خدا کا دیدار نہیں کرایا۔ لوگ اپنے کو دیندار سمجھتے ہیں مگر ان کی دینداری احتسابِ خویش سے خالی ہے۔ ان کی دینداری نے انھیں نہیں بتایا کہ وہ اپنے آپ کو ٹٹولیں اور اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ وہ کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں اجتماعی مواقع پر لوگ دین کے خادم بنے ہوئے ہیں مگر ان کی تنہائیوں نے ابھی تک ان کے خادمِ دین ہونے کی گواہی نہیں دی۔ لوگ معمول کے حالات میں خوش اخلاق نظر آتے ہیں مگر جب غیر معمولی حالات پیدا ہوں تو وہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے کہ انھوں نے خوش اخلاقی کا نام بھی نہیں سنا۔
لوگ اجتماعات میں تقریر کر کے سمجھتے ہیں کہ وہ دین کے داعی ہیں۔ حالاں کہ دین کا داعی وہ ہے جو رات کی تنہائیوں میں لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ سے دعا کرتا ہو۔ داعی وہ ہے جو اپنے مدعو کے لیے اتنا شفیق ہو کہ اس کی اصلاح کی خاطر یک طرفہ طور پر اس سے اپنی تمام شکایتیں ختم کر دے۔
لوگ انسانوں کے نزدیک دین دار بنے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ دین دار وہ ہے جس نے خدا کے نزدیک دین دار ہونے کا ثبوت دیا ہو۔ لوگ بھیڑ کے سامنے اپنی اسلامیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں حالاں کہ اسلامیت صرف وہ معتبر ہے جس کو نہ دکھائی دینے والے فرشتوں نے دیکھا ہو اور آخرت میں کھلنے والے رجسٹر میں جس کا اندراج ہوا ہو۔
آدمی ایک پھل کھائے تو وہ جانتا ہے کہ پھل نام ہے مغز کا نہ کہ چھلکے کا۔ آدمی کسی سے محبت کا امیدوار ہو تو وہ جانتا ہے کہ محبت نام ہے دل کے تعلق کا نہ کہ رسمی آداب کا۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ یہی لوگ اس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ دین نام ہے حقیقت کا۔ خدا پرستی یہ ہے کہ آدمی اللہ کے جلال سے کانپے، اللہ کی یاد اس کی روح کی غذا بن جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues