قرأتُ الرسالة و فرحت جداً وحضرت فوراً
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۲۷
"اسلامک سینٹر کے اسٹال پر حاضری کی تمنا کئی روز سے تھی ۔ الحمدللہ آج اس کا موقع ہاتھ آیا میں جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب کی نگارشات کا برسوں سے مطالعہ کر رہا ہوں، لیکن یہ اندازہ بالکل نہ تھا کہ مولانا محترم نے اس قدر کتابیں تصنیف فرمائی ہوں گی۔ کمیت اور کیفیت دونوں ہی قابل تعریف ہیں۔ مولانا کی تحریر نہایت فکر انگیز اور جدید ذہن کے عین مطابق ہے۔ اسلامی نقطہ نظر کی عکاسی جس خوبی سے مولانا نے اپنی تصانیف میں کی ہے اس کی مثال کہیں اور مشکل سے ملے گی ۔ ڈاکٹر ثانی اثنین صاحب بھی مبارک باد کے قابل ہیں کہ انھوں نے اپنے اسٹال کو ایسا منظم کر رکھا ہے کہ ایسا سلیقہ کسی اور اسلامی اسٹال میں میں نے نہیں دیکھا۔ "
Dr. Syed Ausaf Ali, Indian Institute of Islamic Studies, New Delhi I welcome such publications so that even non-Muslims may understand the greatness of Islamic religion and culture. N.S. Saksena, 139 Civil Lines, Bareilly 243001 Is it possible for a person to write so much. Perhaps not but with the grace of God. Shabi Ahmed, LCHR, 35 Feroz Shah Road, New Delhi. ۱۰- ۲۱ فروری ۸۶ کو نئی دہلی میں مسلم اور ہندو اہل فکر کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کا مقصد اس صورت حال پر غور کرنا تھا جو بابری مسجد کے سلسلے میں حال میں ملک کے اندر پیدا ہوئی ہے۔ صدر اسلامی مرکز بھی اس موقع پر شریک ہوئے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
۱۱- تذکیر القرآن کی تحریر اور کتابت کا کام خدا کے فضل سے مسلسل جاری ہے۔ اس کے ستائیس پارے تک تیار ہوگئے ہیں۔ انشاء اللہ امید ہے کہ ۱۹۸۶ء میں اس کی دوسری جلد چھپ کر آ جائے گی۔ ۱۲- پیغمبر انقلاب کا انگریزی ترجمہ چھپ کر تیار ہو گیا ہے اور حسب فرمائش اس کی روانگی شروع جلد ہی شروع ہو جائے گی ۔
۱۳- اسلامی مرکز کے لٹریچر کو ہندی میں منتقل کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ چنانچہ اس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پہلی کتاب کے طور پر "انسان اپنے کو پہچان" کا ہندی ترجمہ اس وقت زیر طبع ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues