قرأتُ الرسالة و فرحت جداً وحضرت فوراً
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۴۶
مکتبہ الرسالہ کی مطبوعات کو منگوا کر نمائش کے لیے رکھا۔
۷- "الرسالہ کیسٹ" کے ذریعہ خدا کے فضل سے الرسالہ اور اسلامی مرکز کا پیغام ان لوگوں تک بھی پہونچ رہا ہے جو اردو زبان پڑھ نہیں سکتے البتہ سن کر سمجھ سکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ایک نئی بات یہ علم میں آئی کہ باہر کے ملکوں کے نوجوان جو کئی سال تک ہندوستان میں زیر تعلیم رہنے کی وجہ سے اردو بول چال سمجھنے لگے ہیں وہ بھی الرسالہ کیسٹ سے دل چسپی لے رہے ہیں۔ چنانچہ دفتر میں سوڈان کے ایک نوجوان کا خط موصول ہوا ہے ، وہ ہندوستان کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں ۔ انھیں کسی ذریعہ سے ایک کیسٹ ملا تھا ۔ اب وہ ہر کیسٹ کو سننا چاہتے ہیں اور اس کے مستقل خریدار بن گئے ہیں ۔
۸- انگریزی الرسالہ خدا کے فضل سے دن بدن لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ ۳ جنوری کو ایک مسلم ملک کے سفارت خانہ کے کلچرل اتاشی اچانک مرکز میں آئے ۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی میں نے آپ کا انگریزی الرسالہ دیکھا۔ وہ مجھ کو بہت پسند آیا اور میں فوراً ملاقات کے لیے آگیا :
قرأتُ الرسالة و فرحت جداً وحضرت فوراً
وہ انگریزی زبان اچھی جانتے ہیں ۔ انھوں نے پیش کش کی کہ اگر زبان کے اعتبار سے کسی مدد کی ضرورت ہو تو میں اس کے لیے حاضر ہوں ( اذا اردتم المساعدة من ناحية اللغة فاناموجود)
۹- بکلور میں اسلامی مرکز کی شاخ نے اطلاع دی ہے کہ اس نے کنٹری زبان میں کچھ ترجمے تیار کر لیے ہیں ؛ انشاء اللہ وہ جلد ہی شائع کیے جائیں گے ۔
۱۰۔ ساتویں عالمی کتابی نمائش ( ورلڈ بک فیئر ) نئی دہلی میں فروری ۱۹۸۶ میں ہوئی ۔ اس موقع پر اسلامی مرکز کا ایک اسٹال لگایا ۔ اسلامی مرکز کے بنگ اسٹال کا نمبر 260 تھا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں لوگ اسٹال پر آئے ۔ بہت سے لوگوں نے کتابیں خریدیں ، الرسالہ کی خریداری قبول کی اور اعلیٰ تاثرات کا اظہار کیا۔ یہاں بطور نمونہ چند تاثرات نقل کیے جاتے ہیں : قوّاكم الله وبارك في جهودكم (ڈاکٹر شفیق احمد ندوی ، جامعہ ملیہ نئی دہلی)
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues