انجام پر غور کرنا
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۴
انجام پر غور کرنا
جاء رجل الى رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس فقال : یا رسول اللہ اوصنی، فقال : نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے نصیحت کیجئے۔ امستوصٍ انت۔ فقال نعم ۔ قال علیہ آپ نے فرمایا ، کیا تم واقعۃً نصیحت لینا چاہتے ہو الصلوٰۃ والسلام : اذا هممت بامرفتَدبّر اس نے کہا۔ ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاقبته - فان كان رشداً فامضه وان فرمایا : جب تم کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے انجام كان غيا فانته عنه پر غور کرو۔ اگر اس میں بھلائی ہو تو اس کو کرو۔ اور اگر اس میں برائی ہو تو اس سے رک جاؤ ۔
اس سے معلوم ہوا کہ ہر کام کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھنا چاہیے ۔ جو چیز باعتبار انجام ٹھیک ہو اس کو کرنا اور جو چیز باعتبار انجام ٹھیک نہ ہو اس کو نہ کرنا ، یہ اسلام کا طریقہ ہے اور یہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو سکھایا ہے ۔
عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ چیزوں کو محض ان کی ظاہری صورت ۔ (Face value) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور بس فوراً اس کو پوڑتے ہیں۔ مگر یہ سراسر غیر اسلامی طریقہ ہے۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ چیزوں کو ان کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے نہ کہ محض ظاہر کے اعتبار سے ۔ جب بھی کوئی معاملہ سامنے آئے تو اقدام کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کا بھر پور جائزہ لیا جائے ۔ خاص طور پر یہ غور کیا جائے کہ اگر اقدام کیا جاتا ہے تو دوسروں کا رد عمل کیا ہوگا ۔ کن طاقتوں سے مقابلہ پیش آئے گا ۔ کن مسائل سے نمٹ کر اپنا سفر جاری رکھنا ہوگا۔ اقدام کے نفسیاتی، سماجی اور سیاسی اثرات کیا ہوں گے ۔ تمام ضروری پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد صرف اس وقت اقدام کیا جائے جب یہ یقین ہو جائے کہ یہ اقدام مفید اور صحیح نتیجہ پر پہنچنے والا ہے ۔
اقدام صرف وہ ہے جو نتیجہ خیز ہو۔ جو اقدام نتیجہ خیز نہ ہو، وہ اقدام نہیں ، خود کشی ہے۔ ایسے اقدام سے پر ہیز کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا خود کشی سے پرہیز کرنا۔