Al-Risala · May 1986 · page 5

عملِ باطل

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۵

عملِ باطل

شریعت میں جو چیزیں حرام ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جس کو قرآن میں " اکل اموال الناس بالباطل" کہا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن میں چار واضح آیتیں آئی ہیں۔ سورہ نساء ( آیت ۲۹ ) میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو ، آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر نہ کھاؤ إلّا یہ کہ کوئی تجارت ہو جو باہمی رضا مندی سے کی جائے ۔ سورہ نساء (آیت161) میں ارشاد ہوا ہے کہ یہود کو اس لیے سخت سزا میں مبتلا کیا گیا کہ وہ لوگوں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے تھے ۔ سورہ توبہ (آیت ۳۴) میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو ، یہودیوں کے اکثر علماء اور مشائخ لوگوں کے مال ناحق طور پر کھاتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لیے سخت عذاب ہے ۔ (اس لیے تم ایسا مت کرنا )

اسی عملِ باطل کی ایک صورت وہ ہے جس کا ذکر سورہ بقرہ (آیت ۱۸۸) میں ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بها الى الحكام لتأكلوا فريقاً من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون - سورہ بقرہ کی اس آیت کا ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی کے الفاظ میں حسب ذیل ہے :

اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر مت کھاؤ اور ان کے جھوٹے مقدمہ کو حکام کے یہاں اس غرض سے رجوع مت کرو کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کے مالوں کا ایک حصہ بطریق گناہ یعنی ظلم کے کھا جاؤ۔ اور تم کو اپنے جھوٹ اور ظلم کا علم بھی ہو۔

اقوالِ مفسرین

اس آیت کی نہایت واضح تشریح حدیث اور آثار میں موجود ہے۔ تفسیروں میں اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ مفسر ابن کثیر نے اس آیت کے تحت جو کچھ لکھا ہے اس کا پورا ترجمہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں :

علی بن ابی طلحہ نے کہا اور عبداللہ بن عباس نے بھی کہ یہ آیت ایسے آدمی کے بارے میں ہے جس کے پاس کسی کا مال ہو اور اس مال کو لینے کے لیے اس کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو پھر بھی وہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page