Al-Risala · May 1986 · page 9

اجتماعی مہم

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۹

اجتماعی مہم

قرآن میں اہل ایمان کی یہ خصوصیت بتائی گئی ہے کہ وہ جب رسول (ب الفاظ دیگر امورِ مسلمین کے ذمہ دار) کے ساتھ کسی امر جامع پر ہوں تو بلا اجازت وہاں سے اٹھ کر نہیں جاتے، یہاں امر جامع سے مراد اجتماعی معاملہ ہے۔ یعنی دین کا ایسا کام جس کے لیے مشترکہ عمل ضروری ہو۔ اور "اجازت" کا ذکر بطور علامتی واقعہ کے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دین کے اجتماعی کام سے آدمی کو اسی طرح گہری وابستگی ہونی چاہیے جو اس کو اپنے ذاتی کام سے ہوتی ہے۔

جس کام سے آدمی کے ذاتی فائدے وابستہ ہوں، جس کا تعلق براہِ راست اس کی شخصی مصلحتوں سے ہو، وہاں ذاتی فائدہ خود ہی وہ طاقت ور محرک بن جاتا ہے جو آدمی کو اس کام سے جوڑے اور اس کو اس وقت تک اس سے جدا نہ ہونے دے جب تک اس کو یہ یقین نہ ہو جائے کہ جو کام مطلوب تھا وہ انجام پا چکا ہے۔ ذاتی کام کو آدمی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اس لیے آدمی اس کو کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ مگر جس کام کا تعلق مشترک اجتماعی معاملات سے ہو اس کو آدمی دوسروں کی ذمہ داری سمجھ لیتا ہے۔ ایسے کام کے لیے آدمی کے اندر طاقت ور شخصی محرک نہیں ابھرتا۔ اس لیے عام آدمی اس کو اپنے لیے بوجھ سمجھتا ہے۔ ایسے کام میں بھر پور دلچسپی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر گہرا اجتماعی شعور موجود ہو۔ وہ اجتماعی مفاد کو اسی طرح اہمیت دینے لگے جس طرح وہ ذاتی مفاد کو اہمیت دیتا ہے۔

مومن سے یہ مزاج مطلوب ہے کہ جب بھی اسلام کا کوئی اجتماعی تقاضا ہو تو وہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کے لیے دوڑ پڑے۔ وہ آخر وقت تک بھر پور طور پر اس میں شریک رہے۔ ایسا آدمی جب امیرِ اجتماع سے اجازت مانگتا ہے تو وہ فرار کے جذبہ کے تحت نہیں ہوتا۔ بلکہ حقیقی سبب کے تحت ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اگر ممکن ہو تو اس کو اجازت دے دو۔ تاہم اجازت دینا اور اجازت مانگنا دونوں اس روح کے ساتھ ہونا چاہیے کہ دونوں ایک دوسرے کے حق میں دعا کرتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوں۔ دونوں کی زبان سے وہ دعائیہ کلمہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page