کامیابی کی شرط
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۰
کامیابی کی شرط
آدمی خارجی دنیا کی جو معلومات حاصل کرتا ہے اس کا ۸۰ فی صد حصہ اس کو آنکھ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ خدا جب سورج کے ذریعہ دنیا میں روشنی پھیلاتا ہے تو گویا وہ اس بات کا امکان کھولتا ہے کہ آدمی اپنی آنکھ سے دنیا کی چیزوں کو دیکھے اور اپنے معلومات کے ذخیرہ میں اضافہ کرے ۔ مگر اس امکان سے فائدہ اٹھانا ایک شرط کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ وہ شرط یہ کہ آدمی اپنی آنکھ کو کھولے ۔ اگر آدمی اپنی آنکھیں بند کرے تو سورج کی کامل روشنی کے باوجود وہ کچھ بھی نہ دیکھے گا۔ اس کی معلومات میں ایک فی صد اضافہ بھی نہ ہوگا ۔
اسی طرح خدا جب ہوا کو چلاتا ہے تو گویا وہ اس بات کا امکان کھولتا ہے کہ آدمی اس سے آکسیجن لے اور اپنے لیے زندگی کا سامان کرے ۔ مگر آکسیجن کو پانے کی یہ شرط ہے کہ آدمی اس کو فطرت کے مقرر راستہ سے اپنے اندر داخل ہونے دے ۔ جو آدمی اس شرط کو پورا نہ کرے اس کے لیے آکسیجن سے لدی ہوئی ہواؤں کا چلنا اور نہ چلنا برابر ہوگا۔ وہ ان سے کچھ بھی فائدہ حاصل نہ کر سکے گا ۔ فطرت کا یہی اصول انسانی زندگی کا اصولی بھی ہے۔ انسانی زندگی میں کامیاب ہونے کا اصول بھی وہی ہے جو فطرت کی دنیا میں خدا نے قائم کر رکھا ہے ۔
کامیابی کیا ہے۔ کامیابی مواقع کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہے ۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے کچھ مواقع کھلتے ہیں ۔ اگر وہ ان مواقع کو استعمال کرے تو یقینی طور پر وہ کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ اور اگر وہ ان مواقع کو استعمال کرنے میں غفلت کر جائے تو اسی کے نتیجہ کا دوسرا نام ناکامی ہے۔ یہی اس دنیا کے لیے خدا کا ابدی اصول ہے ۔
تاہم ہر موقع اپنے ساتھ کچھ شرط لیے ہوئے ہوتا ہے ۔ اس شرط کو ملحوظ رکھ کر ہی آپ اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اگر آپ متعلقہ شرط کو ملحوظ رکھنے میں ناکام رہیں تو آپ اس موقع کا فائدہ اٹھانے میں بھی ناکام رہیں گے ۔ یہ دنیا خود اپنے اصولوں پر قائم ہے ۔ دنیا کبھی ہماری خواہشوں کی پابندی نہیں کرے گی ۔ بلکہ ہمیں اپنے آپ کو دنیا کے قائم شدہ اصولوں کا پابند بنانا پڑے گا ۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی