کامیابی کی شرط
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۱
کا واحد راز ہے۔ اس کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں جس سے یہاں کامیابی حاصل کی جاسکے۔ ایک مثال لیجئے ۔ موجودہ زمانہ میں ایک بہت بڑا امکان کھلا ہے جو اس سے پہلے کبھی دنیا میں اس وسعت کے ساتھ موجود نہ تھا۔ یہ ہے آزادی رائے کا حق ۔ موجودہ دور معلوم تاریخ کا پہلا دور ہے جب کہ عالمی سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی پسند کا عقیدہ رکھے ۔ اور اگر وہ اپنے عقیدہ کی تبلیغ کرنا چاہتا ہے تو دوسروں میں اس کی تبلیغ کرے ۔ عقیدہ اور اظہار رائے کی آزادی موجودہ زمانہ میں کامل طور پر ہر شخص کو حاصل ہے ۔ اس میں کمیونسٹ ملکوں کے سوا کسی ملک کا کوئی استثنا نہیں ۔
تاہم یہ آزادی پر امن ذرائع (Peaceful means) کی شرط کے ساتھ مشروط ہے ۔ یعنی آپ جو کچھ کریں سمجھانے بجھانے کے انداز میں کریں ۔ زور زبردستی کے انداز میں نہ کریں ۔ اگر آپ اس شرط پر قائم ہوں تو آج کی دنیا میں اپنے عقیدہ اور نظریہ کی تبلیغ سے آپ کو کوئی روکنے والا نہیں ۔ " پر امن ذرائع " کی شرط کوئی غیر متعلق شرط نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ شرط خود مذکورہ اصول آزادی ہی کا ایک لازمی حصہ ہے ۔ کیوں کہ یہ آزادی کسی ایک شخص کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر شخص کے لیے ہے ۔ اور جب ہر شخص کو یکساں آزادی دی جائے تو پر امن ذرائع کی شرط لازمی طور پر مطلوب ہو جاتی ہے ۔ کیوں کہ کسی شخص کا غیر پر امن ذریعہ اختیار کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ دوسرے شخص کی آزادی چھین رہا ہے ۔ اس طرح غیر پر امن ذرائع کا طریقہ آزادی کا الٹا ہو جاتا ہے ۔ وہ اس کی نفی بن جاتا ہے وہ ایک کے حق میں آزادی اور دوسرے کے حق میں پابندی بن جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں کیوں کر ممکن ہے کہ لوگوں کو اس کی اجازت دی جائے ۔
اس جدید انقلاب نے موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے حق میں ایسے امکانات کھول دیئے ہیں جو اس سے پہلے تاریخ میں کبھی پائے نہیں جاتے تھے ۔ تاہم اس امکان کو حاصل کرنے کی ہمیں ایک لازمی قیمت دینی پڑے گی ۔ وہ یہ کہ ہم اپنے آپ کو کامل طور پر پر امن ذرائع کے دائرہ میں محدود رکھیں ۔ اگر ہم اس لازمی شرط کو پورا کرنے میں ناکام رہیں تو یقینی طور پر ہم موجودہ مواقع کو استعمال کرنے میں بھی ناکام رہیں گے ۔ اگر ہم مذکورہ شرط کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے اس امکان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں تو ہم اللہ کے یہاں مجرم ٹھہریں گے خواہ بطور خود ہم نے دوسروں کو مجرم ٹھہرا رکھا ہو ۔