مذہب کے دروازہ پر
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴
اور سترھویں صدی کے وہ مظالم یاد آنے لگتے ہیں جب کہ یورپ میں سائنس کا آغاز ہوا اور عیسائی مذہب اس کو کچلنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ یہ جدید انسان مذہب کے نام سے صرف عیسائیت کو جانتا ہے اور عیسائیت اس کے نزدیک ایسے بے معنی عقائد کا مجموعہ ہے جس کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ علم کا سامنا کر سکے۔ سر فریڈ ہائل نے اپنی مذکورہ کتاب ذہین کائنات (The Intelligent Universe) میں لکھا ہے کہ اٹھارویں صدی عیسوی میں پختہ مذہبی فکر نے یہ کیا کہ زمین کی پوری تاریخ کو بائبل کی روشنی میں چند ہزار سال کے اندر محدود کر دیا۔ اس نقطہ نظر کی واضح غلطی پہلی بار جیمس ہیوٹن (۱۷۹۷-۱۷۲۶) کی تحقیقات سے ظاہر ہوئی جو پختہ مذہبی لوگوں کے سخت خلاف تھی اور اب بھی وہ ان کے سخت خلاف ہے۔ جیمس ہیوٹن نے اپنی ساری عمر زمین اور چٹانوں کے مطالعہ میں گزاری۔ اس کی تحقیقات نے بتایا کہ پہاڑوں اور وادیوں کے بننے میں کروڑوں سال لگے ہیں۔ عظیم ارضیات داں چارلس لائل (۱۸۷۵-۱۷۹۷) کی تحقیقات نے ہیوٹن کے نتائج کو مزید موکد کیا۔ لائل کی کتاب ارضیات کے اصول (Principles of Geology) ۱۸۳۰ء میں چھپی۔ یہ کتاب سب سے بڑی وجہ تھی جس نے لوگوں کو مطمئن کر دیا کہ زمین کی عمر کے بارہ میں بائبل کا بیان غلط ہے، وہ اس قابل نہیں کہ سنجیدہ غور و فکر میں اس کا حوالہ دیا جا سکے۔ (صفحہ ۲۹-۲۸)
زمین کی عمر (اور اس طرح دوسری چیزوں کے بارے میں) بائبل غیر معتبر ثابت ہوئی تو لوگوں نے یقین کر لیا کہ وہ مذہبی امور کے بارہ میں بھی غیر معتبر ہے۔ یہ تاثر یہاں تک پہنچا کہ لوگوں نے خود مذہب ہی کو غیر معتبر چیز سمجھ لیا۔ مذہب کی غلط نمائندگی کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ خود مذہب کو غلط اور نا قابل اعتبار سمجھنے لگے۔
حقیقت یہ ہے کہ اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ دنیا کو اسلام سے متعارف کیا جائے عیسائیت کی خرابیاں تحریف کی وجہ سے پیدا ہوئیں۔ اسلام چوں کہ تحریف سے پاک ہے اس لیے وہ ان خرابیوں سے بھی پاک ہے ۔ اسلام کو اگر اس کی حقیقی شکل میں جدید انسان کے سامنے لایا جائے تو بے شمار لوگ اس پر لبیک کہیں گے کیوں کہ ان کے لیے یہ عین وہی چیز ثابت ہوگی جس کا وہ اپنی فطرت اور اپنے علم کے تقاضے کے سخت پہلے سے انتظار کر رہے ہیں۔ بائبل نے انھیں مذہب سے دور کیا تھا، اسلام دوبارہ انھیں مذہب سے قریب کرنے کا سبب بن جائے گا۔