Al-Risala · May 1986 · page 16

مذہب کے دروازہ پر

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۶

مذہب کے دروازہ پر

ڈاکٹر فریڈ ہائل مشہور سائنس داں ہے۔ اس کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے " ذہین کائنات " ڈھائی سو صفحہ کی اس کتاب میں مصنف نے دکھایا ہے کہ کائنات کا جدید سائنسی مطالعہ حیرت انگیز طور پر اس ذہن کی تردید کرتا ہے جو انیسویں صدی میں قائم کیا گیا تھا۔ پہلے یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ کائنات محض بے شعور مادہ کی اندھی کار فرمائی ہے۔ مگر بیسویں صدی کے آخر میں سائنس کے مختلف شعبوں میں جو تحقیقات ہوئی ہیں وہ واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ کائنات محض ایک مادی کائنات نہیں ، وہ ایک " ذہین کائنات " ہے۔ یہاں اندھے مادی عمل کے بجائے ہر طرف ذہن کی کار فرمائی نظر آتی ہے ۔ ان تفصیلات کو قلم بند کرتے ہوئے مصنف نے ایک بڑی عبرت انگیز بات لکھی ہے ۔ مصنف کا یہ پورا پیراگراف ہم انھیں کے لفظوں میں نقل کرتے ہیں :

This indeed is just what orthodox scientists are unwilling to admit. Because there might turn out to be - for want of a better word - religious connotations, and because orthodox scientists are more con- cerned with preventing a return to the religious excesses of the past than in looking forward to the earth, the nihilistic outlook described above has dominated scientific thought throughout the past century. Fred Hoyle, The Intelligent Universe Michael Joseph Limited 44 Bedford Square, London WCI, 1983, p. 9 زمین سے باہر کی طاقت کی کار فرمائی کی پہاڑ جیسی شہادتیں ملنے کے باوجود یہ وہ چیز ہے جس کو راسخ العقیدہ سائنس داں تسلیم کرنا نہیں چاہتے۔ کیوں کہ انھیں یہ اندیشہ ہے کہ اس کا مذہبی مطلب نکل آئے گا ۔ راسخ العقیدہ سائنس داں سچائی کو پانے سے زیادہ اس کے لیے فکر مند ہیں کہ وہ ماضی میں ہونے والے مذہبی مظالم کے اعادہ کو روکیں ۔ مذکورہ منکرانہ نقطہ نظر پوری گزشتہ صدی میں سائنسی خیالات پر چھایارہاہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ دور جدید میں علوم فطرت کے مطالعہ نے انسان کو مذہب کے دروازہ پر پہونچا دیا ہے۔ مگر جدید انسان جس کی پرورش عیسائی روایات میں ہوئی ہے وہ اپنی مخصوص تاریخ کی وجہ سے مذہب کے دروازے میں داخل ہونے سے ہچکچا رہا ہے ۔ " مذہب " کا تصور آتے ہی اس کو سولھوں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page