آه یه مسلمان
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۹
مدگم ثانی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت موجود تھے جب کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے غزوہ حنین کے بعد مالِ غنیمت کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس سلسلے کی ایک طویل روایت کا ایک حصہ یہ ہے :
جاء رجل من بنى تميم يقال له ذوالخويصرة فوقف عليه وهو يعطى الناس - فقال یا محمد قد رأيت ما صنعت في هذا اليوم - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم، اجل فكيف رأيت - فقال لم أركَ عَدَلْتَ۔ (سيرة ابن هشام، الجزء الرابع ، صفحه ۱۴۴) بنو تمیم کا ایک شخص آیا جس کا نام ذو الخُو یصرہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اور آپ اس وقت لوگوں کو دے رہے تھے۔ اس نے کہا کہ اے محمد، میں نے دیکھ لیا جو آپ نے آج کے دن کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، پھر تم نے کیا دیکھا۔ اس نے کہا کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے انصاف کیا ہو۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ عُیینہ بن حصن مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے حر بن قیس کے یہاں ٹھہرے ۔ پھر وہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے یہاں اجازت لے کر حاضر ہوئے جب وہ آئے تو انھوں نے کہا :
هي ياابن الخطاب، فو الله ما تعطينـا الجزل ولا تحكم فينا بالعدل ۔
(رياض الصالحين صفحه ۱۱۴)
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ غضب آلود ہوئے اے خطاب کے لڑکے ، خدا کی قسم آپ نہ ہم کو کچھ دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں ۔
مذکورہ دونوں الزام یقینی طور پر غلط تھے ۔ پھر بھی دو معصوم ترین روحوں پر الزام لگانے کے لیے لوگوں نے الفاظ پالیے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں کسی کے ملزم ثابت ہونے کے لیے یہ کافی نہیں کہ کچھ لوگ اس کے خلاف کچھ الفاظ پالیں۔ لوگوں کو بہر حال اس قسم کے الفاظ ملتے رہیں گے کہ وہ جس کو بد نام کرنا چاہیں بد نام کریں۔ یہاں تک کہ قیامت کا زلزلہ آئے اور لوگوں سے ناحق کلام کے اس بنیادی حق کو پامال کرنے نہیں دیا۔ کرنے کی آزادی چھین لے۔
سے دیپ موریہ کا نام لیں۔ سُّ