Al-Risala · May 1986 · page 20

آه یه مسلمان

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۰

کرنے کا کام

امیر تبلیغ مولانا محمد الیاس رحمتہ اللہ علیہ کا طریقہ تھا کہ وہ کسی جماعت کو دین کے راستہ میں بھیجتے تو روانگی کے وقت اس کو یہ نصیحت کرتے :

نیچی نظر، دل میں فکر ، زبان پر ذکر ، قدم ملا کر چلو گے تو منزلیں آسان ہو جائیں گی ۔

اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ــــــــ سنجیدگی ، احساس ذمہ داری ، اللہ کی عظمت کا اقرار اور اتحاد ، یہ چیزیں جن لوگوں کے اندر پیدا ہو جائیں ، وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ یہ انتہائی اہم بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امت کے فرد فرد میں یہ شعور جگانا اور ایک ایک شخص کے اندر یہ جذبہ بھرنا ہی اصل کام ہے ۔ اسی میں آخرت کی بھلائی ہے اور اسی میں دنیا کی بھلائی بھی۔ قوم یا خارجی نظام کا بذات خود کوئی مستقل وجود نہیں ۔ اصلی اور مستقل وجود صرف فرد کا ہے۔ فرد کے مجموعہ کا نام قوم ہے ۔ اور فرد کی کار کردگی کا نام نظام ۔ اس لیے فرد کو بنانا قوم کو بنانا ہے اور فرد کی اصلاح گویا پورے نظام کی اصلاح ہے ۔

اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو وہی کام کام ہے جو فرد کو نشانہ بنا کر کیا جائے ۔ جس کام میں نظام یا حکومت کو نشانہ بنایا گیا ہو وہ صرف ایک ہنگامہ ہے ، وہ باعتبارِ حقیقت کوئی کام نہیں ۔ جو چیز آپ اجتماع کی سطح پر چاہتے ہیں اس کو آپ اسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب کہ آپ اس کو فرد کی سطح پر حاصل کر چکے ہوں ۔ فرد کی اصلاح کے بغیر اصلاح معاشرہ اور انقلاب حکومت کا نعرہ لگانا یا تو لیڈری ہے یا دیوانگی ۔ اس کے سوا اس کی کوئی تیسری توجیہہ نہیں کی جا سکتی ۔

فرد فرد کے اندر وہ گہرا ایمان پیدا کیجئے کہ تواضع سے اس کی نظریں جھک جائیں ۔ آخرت کی جواب دہی کا احساس اس کے سینہ میں تڑپ بن کر داخل ہو جائے ۔ اللہ کی عظمت اس کے اوپر اتنی چھائے کہ وہ اس کو ہر وقت یاد کرنے والا بن جائے ۔ اس کی بے نفسی اس کو لوگوں کے ساتھ متحد کر دے ۔ افراد کے اندر اگر یہ اوصاف آجائیں تو اس کے بعد بقیہ چیزیں اسی طرح لازمی طور پر آئیں گی جس طرح ایک زندہ درخت کے اوپر پھل ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page