Al-Risala · May 1986 · page 32

زیک سوئے رستم زیک سوئے سعد

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۲

حضرت سعد کے براہ راست جنگ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت فوج کے اندر کافی چہ میگوئیاں ہوئیں۔ ایرانیوں کی شکست کے بعد ایک مسلمان فوجی نے نظم کہی جس کے دو اشعار یہ تھے : وَقَاتَلْتُ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ نَصْرَهُ وَسَعْدٌ بِبَابِ الْقَادِسِيَّةِ مُعْصَمُ فَأَبْنَا وَقَدْ أَمْتُ نِسَاءً كَثِيرَةً وَنِسْوَةُ سَعْدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ أَيِّمُ میں لڑا یہاں تک کہ اللہ نے اپنی مدد بھیجی۔ اور سعد قادسیہ کے دروازے سے پلٹے رہے۔ پھر ہم واپس ہوئے اور بہت سی عورتیں بیوہ ہو چکی تھیں ۔ اور سعد کی بیویوں میں سے کوئی بیوی بیوہ نہیں ہوئی ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نہایت جلیل القدر صحابی تھے ۔ وہ اسلام کے بڑے بڑے مجاہدوں میں شامل تھے ۔ لیکن مذکورہ واقعہ کو اگر اس کی ظاہری صورت میں لیا جائے تو ایک شخص یہ رائے قائم کرے گا کہ نعوذ باللہ وہ ایک بزدل آدمی تھے ۔ انھوں نے دوسروں کی عورتوں کو بیوہ بنایا اور خود اپنی بیوی کے ساتھ شاہی قلعہ میں محفوظ بیٹھے رہے ۔

مگر یہ شبہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ اصل واقعہ کو ادھوری شکل میں دیکھا جائے ۔ واقعہ کو پوری شکل میں دیکھیے تو یہ شبہ باقی نہ رہے گا ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کو عرق النساء کی بیماری تھی ۔ اور وقفہ وقفہ سے اس کے دورے پڑتے رہتے تھے ۔ ایرانی جنگ کی ابتدا میں وہ ٹھیک حالت میں تھے ۔ چنانچہ قادسیہ کے آخری معرکہ سے پہلے دوسری جنگوں میں وہ براہ راست شریک رہے ۔ مگر قادسیہ کے معرکہ کے موقع پر ان کو عرق النساء کا شدید دورہ پڑا ہوا تھا ۔ وہ اس وقت چلنے پھرنے سے بالکل معذور تھے ۔ اس بنا پر مقابلہ میں براہ راست شریک نہیں ہو سکتے تھے ۔ مگر ان کے جنگی تجربات اور ان کی اعلیٰ ذہانت کی وجہ سے حضرت عمرؓ نے ان کو بدستور سپہ سالاری کے عہدہ پر باقی رکھا ۔ اگرچہ وہ عملی طور پر جنگ میں شریک نہ تھے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی رہنمائی اور ان کی منصوبہ بندی ہی کی وجہ سے اس معرکہ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا ۔

ان کی جنگی ذہانت کا ایک ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے عین معرکہ کے وقت ایران کی ہاتھیوں کی فوج کا حل دریافت کیا جس نے کالی آندھی کی طرح مسلمانوں کو روندنا شروع کر دیا تھا ۔ عرب ذہن کے لیے یہ بالکل ایک نیا مسئلہ تھا اس لیے وہ اس کا حل سوچنے سے عاجز ہو رہے تھے ۔ حضرت سعدؓ نے یہ کیا کہ ان ایرانیوں کو بلایا جو پہلے پارسی تھے اور اب مسلمان ہو گئے تھے ۔ ان کے نام ضخم اور سلم وغیرہ تاریخوں میں آئے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page