تاریخ کی آواز
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۱
تاریخ کی آواز
حضرت عمر فاروق رضی اللہ کی خلافت کے زمانہ میں14ھ میں ایران فتح ہوا۔ اس زمانہ میں لوگوں کے ذہن پر ایرانی شہنشاہ کی اتنی عظمت تھی کہ حضرت عمر اس مہم کی سربراہی کے لیے خود مدینہ سے روانہ ہونے کے لیے تیار ہو گئے ۔ مگر لوگوں نے اس کے خلاف مشورہ دیا۔ چنانچہ ایک صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص کو اس مشکل مہم کا سپہ سالار بنایا گیا۔
اس مہم کا آخری معرکہ قادسیہ کے قریب ایک میدان میں ہوا۔ یہاں میدان جنگ کے کنارے ایک قدیم شاہی عمارت تھی۔ حضرت سعد اس کی چھت پر چڑھے اور میدان کی طرف رخ کر کے تکیہ کے سہارے بیٹھ گئے ۔ وہ جنگ میں خود شریک نہیں ہوئے ۔ اپنی جگہ خالد بن عرفطہ کو میدان مقابلہ کا سردار مقرر کیا۔ حضرت سعد عمارت کے اوپر بیٹھے ہوئے مسلسل جنگ کا مشاہدہ کر رہے تھے اور حسب ضرورت اپنی ہدایات پرچی پر لکھ کر خالد بن عرفطہ کے پاس بھیجتے رہتے تھے ۔ یہ جنگ اسلامی تاریخ کی انتہائی ہولناک جنگ تھی ۔ اس جنگ میں ایرانی ہاتھیوں کی فوج لائے تھے جن کا اس سے پہلے عربوں نے تجربہ نہیں کیا تھا ۔ ایک موقع پر ہاتھیوں کی کالی آندھی نے مسلمانوں کو پیچھے ہٹا دیا۔ حضرت سعد یہ دیکھ کر بے تاب ہو گئے اور بار بار کروٹیں بدلنے لگے۔ حضرت سعد کی اہلیہ سلمیٰ جو اس وقت ان کے پاس تھیں، یہ دیکھ کر بول اٹھیں "کاش آج مثنیٰ ہوتا ۔ " حضرت سعد نے سلمیٰ کو تھپڑ مار کر کہا ۔ " مثنیٰ ہوتا تو وہ کیا کر لیتا ؟ " سلمیٰ نے جواب دیا۔ " سبحان اللہ، بزدلی کے ساتھ غیرت بھی ! " سلمیٰ نے یہ بات اس لیے کہی کہ حضرت سعد خود لڑائی میں شریک نہیں تھے ۔ اس کے بعد تاریخ لمبی تفصیل بیان کرتی ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے ایران کی فوجی تیاریوں کا مقابلہ کیا اور بالآخر سنتِ ندار فتح حاصل کی ۔
اس جنگ میں ایرانیوں کا سردار رستم تھا۔ رستم کو ہلال نامی ایک مسلمان سپاہی نے قتل کیا۔ اگرچہ فردوسی نے غلطی سے یہ سمجھا ہے کہ رستم کا مقابلہ حضرت سعد سے ہوا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے شاہنامہ میں لکھا ہے :