مہر معجل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۵
کفالت کی ذمہ داری لے رہا ہے ۔ مہر کی اصل حیثیت یہی ہے ۔
مہر معجل
مہر اصطلاحی طور پر اس رقم یا کسی متعین چیز کا نام ہے جو ایک مرد نکاح کے وقت اپنی بیوی کو ادا کرتا ہے ۔ اس مہر کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس کو نکاح کے وقت فوراً ادا کر دیا جائے ۔ مہر کی اس قسم کو مہر معجل کہتے ہیں۔ معجل کا لفظ عجلت سے بنا ہے ۔ یعنی جلد یا بلا تاخیر ادا کی جانے والی مہر ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانہ میں عام رواج مہر معجل ہی کا تھا ۔ وہ لوگ مختصر مہر باندھتے اور نکاح کے وقت ہی اس کو ادا کر دیتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ کا نکاح حضرت علی ابن ابی طالب سے کیا ۔ اس سلسلہ میں مختلف تفصیلات حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں اس کا ایک جز ر مہر کے بارے میں ہے ۔ نکاح کی بات طے ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ایک حصہ یہ ہے :
فقال وهل عندك من شيء تتصدقها به ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ، کیا تمہارے پاس فقلت لا والله يا رسول الله - فقال وما فعلت کوئی چیز (بطور مہر) ہے جس کے ذریعہ تم فاطمہ کو اپنے درع سلحتكها ۔ فو الذي نفس علی بیدہ لیے جائز کرو ۔ میں نے کہا کہ نہیں خدا کی قسم اے خدا انها للحطمية ما قيمتها اربعة دراهم کے رسول ۔ آپ نے کہا کہ وہ زرہ کیا ہوئی جو میں نے فقلت عندي - فقال قد زوجتكها تم کو دی تھی ۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ) اس ذات کی فباعت اليها بها فاستحلّها بها ۔ فان كانت قسم جس کے قبضہ میں علی کی جان ہے ، وہ زرہ ٹوٹ تصداق فاطمة بنت رسول الله صلی الله چکی تھی ، اس کی قیمت چار درہم بھی نہ تھی ۔ پس میں نے علیہ وسلم - ( البدایہ والنہایہ ، جلد ۳ )
کہا کہ وہ میرے پاس ہے ۔ آپ نے کہا کہ میں نے تمہارا نکاح فاطمہ سے کر دیا تو اس زرہ کو فاطمہ کے پاس بھیج دو اور اس کے ذریعہ فاطمہ کو اپنے لیے جائز کرو۔
تو یہ تھا فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر ۔
حضرت ربیعہ اسلمی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ اے ربیعہ تم نکاح کیوں نہیں کر لیتے ۔ میں نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ۔ یہ سوال و جواب کئی بار ہوا ۔ آخر