غلط رواج
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۱
نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم بوجھ ہو (اعظم النکاح برودۃ ایسرہ مؤنۃ ، مسند احمد) اور کم بوجھ والا نکاح یقیناً وہ ہے جو اپنے موجودہ وسائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ ہو جائے ۔ نہ کہ وہ جس کا تحمل اس کے وسائل نہ کر سکتے ہوں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا معاملہ آیا جس کا نکاح ایک خاتون سے طے ہوا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس مہر دینے کے لیے کیا ہے ۔ اس نے کیا کہ کچھ نہیں۔ آپ نے دوبارہ پوچھا ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ اس کے بعد آپ نے اس سے یہ نہیں کہا کہ تم جا کر کسی سے قرض لاؤ اور پھر اس کے ذریعہ سے نکاح کرو۔ بلکہ اگلا سوال آپ نے یہ کہا کہ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن ہے (قرآن کا کچھ حصہ تم کو یاد ہے ) اس نے کہا کہ ہاں ۔ آپ نے فرمایا جاؤ، میں نے قرآن کے اسی محفوظ حصہ کو مہر قرار دے کر اس خاتون کے ساتھ تمہارا نکاح کر دیا (زوجتک بما معک من القران ، کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ ، جلد چہارم ، صفحہ 107) مشہور صحابی حضرت عبد الرحمن بن عوف نے مدینہ میں شادی کی ۔ اس وقت مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ مگر انھوں نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے بڑے صحابہ کو اس موقع پر بلائیں۔ انھوں نے بس خاموشی سے ایک خاتون کے ساتھ نکاح کر لیا اس سلسلہ میں امام احمدؒ نے مفصل روایت نقل کی ہے جس کا ایک حصہ یہ ہے : فجاء (عبد الرحمن بن عوف) وعليه حضرت عبد الرحمن بن عوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ ردع زَعفران ۔ فقال رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے اوپر زعفران کی خوشبو علیہ وسلم مہیم ۔ فقال یا رسول اللہ تزوجت کا اثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا امرأة - قال ما اصدقْتُها - قال ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے نکاح وزن نواة من ذهب ۔ کر لیا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس کو کتنا ( البدایہ والنہایہ جلد ۳) مہر دیا۔ انھوں نے کہا کہ کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔
غلط رواج
موجودہ زمانہ میں نکاح کی اصل اسلامی روح تقریباً ختم ہوگئی ہے ۔ مسلمانوں میں آج نکاح