Al-Risala · May 1986 · page 40

صحابہ کی شادی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۴۰

یا کسی کو اس سے زیادہ مہر دیا گیا ہے تو میں زیادہ مقدار کو لے کر اس کو بیت المال میں جمع کر دوں گا۔ یہ کہہ کر آپ منبر سے اترے تو قریش ایک عورت سامنے آئی ۔ اس نے کہا اے امیر المومنین ، اللہ کی کتاب زیادہ پیروی کے قابل ہے یا آپ کا قول ۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ اللہ کی کتاب ۔ عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی کریں، اور اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ __ اور اگر تم نے کسی عورت کو زیادہ مال دیا ہے تو طلاق کے بعد) اس میں سے کچھ نہ لو۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے کہا : ہر ایک عمر سے زیادہ جانتا ہے (کل احد افقه من عمر) آپ نے یہ فقرہ تین بار کہا ۔ اس کے بعد حضرت عمر دوبارہ منبر پر آئے اور لوگوں سے کہا:

انى كنت نهيتكم ان تغالوا في صداق النساء میں نے تم کو عورتوں کا مہر زیادہ باندھنے سے روکا فليفعل رجل في ماله ما بدا له و عند تھا ۔ اب ہر آدمی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے مال میں ابی عمر بن فضالة في اماليه عن عمر قال) جو چاہے کرے (آپ نے مزید فرمایا) ہر اگرچہ آخرت میں لو كان المهر متاعا ورفعة في الآخرة بلندی اور عظمت کی چیز ہوتی تو یقیناً رسول اللہ كان بنات النبي صلى الله عليه وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں اس کی زیادہ ونساءه احق بهذا الملك (كنز العمال) مستحق تھیں ۔

اس سے معلوم ہوا کہ نکاح میں نہ زیادہ مہر باندھنا اگر چہ خالص قانونی اعتبار سے بالکل ممنوع چیز نہیں مگر وہ یقینی طور پر غیر افضل چیز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے مہر کم تھے ۔ ان میں سے کسی کے بارے میں بھی یہ ثابت نہیں کہ اس نے اپنایا اپنی بیٹیوں کا مہر زیادہ مقرر کیا ہو ۔

صحابہ کی شادی

دور اول میں شادی کی کوئی دھوم کی چیز نہ تھی ۔ وہ ایک ایسی چیز تھی جس کو بس سادہ طور پر انجام دے لیا جائے ۔ اس کے رسوم اور اس کے اخراجات اتنے مختصر ہوں کہ وہ طرفین کے لیے کسی بھی اعتبار سے بوجھ نہ بنے ۔ صحابہ کے یہاں شادی کی تقریب ہر قسم کے تکلف اور نمائش سے بالکل خالی ہوتی تھی ۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ با برکت

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page