Al-Risala · June 1986 · page 3

شہد کا سبق

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۳

شہد کا سبق

شہد کی مکھیاں پھولوں کا جو رس جمع کرتی ہیں وہ سب کا سب شہد نہیں ہوتا۔ اس کا صرف ایک تہائی حصہ شہد بنتا ہے۔ شہد کی مکھیوں کو ایک پونڈ شہد کے لیے ۲۰ لاکھ پھولوں کا رس حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے مکھیاں تقریباً ۳۰ لاکھ اڑانیں کرتی ہیں۔ اور اس دوران میں وہ مجموعی طور پر ۵۰ ہزار میل تک کی مسافت طے کرتی ہیں۔ رس جب مطلوبہ مقدار میں جمع ہو جاتا ہے تو اس کے بعد شہد سازی کا عمل شروع ہوتا ہے ۔

شہد اپنے ابتدائی مرحلہ میں پانی کی طرح رقیق ہوتا ہے۔ شہد تیار کرنے والی مکھیاں اپنے پروں کو پنکھے کی طرح استعمال کر کے فاضل پانی کو بھاپ کی مانند اڑا دیتی ہیں۔ جب یہ پانی اڑ جاتا ہے تو اس کے بعد ایک میٹھا سیال باقی رہ جاتا ہے جس کو مکھیاں چوس لیتی ہیں۔ مکھیوں کے مُنہ میں ایسے غدود ہوتے ہیں جو اپنے عمل سے اس میٹھے سیال مادہ کو شہد میں تبدیل کر دیتے ہیں ۔ اب مکھیاں اس تیار شہد کو چھتے کے مخصوص طور پر بنے ہوئے سوراخوں میں بھر دیتی ہیں ۔ یہ سوراخ دوسری مکھیاں موم کے ذریعہ حد درجہ کاریگری کے ساتھ بناتی ہیں۔ مکھیاں شہد کو ان سوراخوں میں بھر کر اس کو ڈبہ بند غذا کی طرح اہتمام کے ساتھ محفوظ کر دیتی ہیں تاکہ آئندہ وہ انسان کے کام آسکے ۔

اس طرح کے بے شمار اہتمام میں جو شہد کی تیاری میں کیے جاتے ہیں ۔ خدا ایسا کر سکتا تھا کہ طلسماتی طور پر اچانک شہد پیدا کر دے یا پانی کی طرح شہد کا چشمہ زمین پر بہا دے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ خدا ہر قسم کی قدرت کے باوجود شہد کو اسباب کے ایک حد درجہ کامل نظام کے تحت تیار کرتا ہے۔ تاکہ انسان کو سبق ہو۔ وہ جانے کہ خدا نے دنیا کا نظام کس ڈھنگ پر بنایا ہے اور کن قوانین و آداب کی پیروی کر کے خدا کی اس دنیا میں کوئی شخص کامیاب ہو سکتا ہے ۔

شہد کی مکھی جس طرح عمل کرتی ہے اس کو ایک لفظ میں، منصوبہ بند عمل کہہ سکتے ہیں۔ یہی اصول انسان کے لیے بھی ہے۔ انسان بھی صرف اس وقت کوئی با معنی کامیابی حاصل کر سکتا ہے جب کہ وہ منصوبہ بند عمل کے ذریعہ اپنے مقصد تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ منظم اور منصوبہ بند عمل ہی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا واحد یقینی طریقہ ہے ، شہد کی مکھی کے لیے بھی اور انسان کے لیے بھی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page