درخت
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۴
درخت
درخت کا ایک حصہ تنہ ہوتا ہے اور دوسرا حصہ اس کی جڑیں ۔ کہا جائے کہ درخت کا جتنا حصہ اوپر ہوتا ہے تقریباً اتنا ہی حصہ زمین کے نیچے جڑ کی صورت میں پھیلا ہوا ہوتا ہے ۔ درخت اپنے وجود کے نصف حصہ گویا سر سبز و شاداب حقیقت کے طور پر اس وقت کھڑا پاتا ہے جب کہ وہ اپنے وجود کے بقیہ نصف حصہ کو زمین کے نیچے دفن کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ۔ درخت کا یہ نمونہ انسانی زندگی کے لیے خدا کا سبق ہے ۔ اس ہے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی تعمیر اور استحکام کے لیے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے ۔ ایک مغربی مفکر نے لکھا ہے :
Root downward — fruit upward. That is the divine protocol. The rose comes to perfect combination of colour, line and aroma atop a tall stem. Its perfection is achieved, however, because first a root went down into the homely matrix of the common earth. Those who till the soil or garden understand the analogy. Our interests have so centred on gathering the fruit that it has been easy to forget the cultivation of the root. We cannot really prosper and have plenty without first rooting in a life of sharing. The horn of plenty does not stay full unless first there is rooting in sharing. جڑ نیچے کی طرف ، پھل اوپر کی طرف ۔ یہ خدائی اصول ہے ۔ گلاب کا پھول رنگ اور خوشبو کا ایک معیاری مجموعہ ہے جو ایک تنے کے اوپر ظاہر ہوتا ہے ۔ مگر اس کا معیار اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ پہلے ایک جڑ نیچے مٹی کے اندر گئی ۔ وہ لوگ جو زمین میں کھیتی کرتے ہیں یا باغ لگاتے ہیں وہ اس اصول کو جانتے ہیں۔ مگر ہم کو پھل حاصل کرنے سے اتنی زیادہ دلچسپی ہے کہ ہم جڑ جانے کی بات آسانی سے بھول جاتے ہیں ۔ ہم حقیقہ ترقی اور خوش حالی حاصل نہیں کر سکتے جب تک ہم مشترک زندگی میں اپنی جڑیں داخل نہ کریں ۔ مکمل خوش حالی مشترک زندگی میں جڑیں قائم کیے بغیر ممکن نہیں ۔ درخت زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے ۔ مگر وہ زمین کے اندر اپنی جڑیں جما تا ہے ۔ وہ نیچے سے اور کائنات سے زندگی کو اوپر سے نیچے کا بطن دے ۔ درخت کو قدرت کا معلم سے جو انسان کو رسو ستد برلا
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues