Al-Risala · June 1986 · page 5

قدرت کا نظام

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۵

قدرت کا نظام

اگر آپ اپنا کمرہ بند کرکے باہر چلے جائیں اور چند مہینے کے بعد واپس آکر اسے کھولیں تو ہر طرف اتنی گرد پڑی ئی گی کہ جب تک آپ اسے صاف نہ کرلیں آپ اس کمرہ میں بیٹھنا پسند نہ کریں گے۔ تیز ہوا کے ساتھ جب گرد اٹھتی ہے تو آدمی سخت پریشان ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ کب یہ گرد کی آفت اس سے دور ہو جائے ۔

لیکن گرد کیا ہے ۔ یہ زمین کی اوپری سطح کی وہ زرخیز مٹی ہے جس سے ہر قسم کی سبزیاں ، پھل اور غلے پیدا ہوتے ہیں ۔ اگر زمین کی سطح پر یہ مٹی نہ ہو تو زمین پر زندگی گزارنا آدمی کے لیے ناممکن ہو جائے ۔ پھر یہی گرد ہے جو فضا میں کثافت پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے پانی کے بخارات بادل کی صورت اختیار کرتے ہیں اور بوند بوند ہو کر کے زمین پر برستے ہیں ۔ زمین کی اوپری فضا میں گرد نہ ہو تو بارش کا عمل ختم ہو جائے ۔

سورج نکلنے اور ڈوبنے کے وقت جو رنگین شفق آسمان کے کناروں پر دکھائی دیتی ہے وہ بھی فضا میں اسی گرد کی موجودگی کی وجہ سے ہے ۔ گرد ہمارے لیے ایک مفید مادہ بھی ہے اور ہماری دنیا کو خوش منظر بنانے کا ذریعہ بھی۔

یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں کس طرح خدا نے ناخوش گوار چیزوں کے ساتھ خوش گوار چیزیں رکھ دی ہیں ۔ جس طرح پھول کے ساتھ کا نٹا ہوتا ہے اسی طرح زندگی میں پسندیدہ چیزوں کے ساتھ ناپسندیدہ چیزوں کا جوڑا بھی لگا ہوا ہے ۔ اب جب کہ خود قدرت نے پھول اور کانٹے کو ایک ساتھ پیدا کیا ہے تو ہمارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ ہم اس کے ساتھ نباہ کی صورت پیدا کریں ۔ موجودہ دنیا میں اس کے سوا کچھ اور ہونا ممکن نہیں ۔

دوسروں کی شکایت کرنا صرف اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ یہ دنیا اس ڈھنگ پر بنائی گئی ہے کہ یہاں لازماً شکایت کے مواقع آئیں گے ۔ عقل مند آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو بھول ہو جائے ۔ وہ شکایت کو نظر انداز کر کے اپنے مقصد کی طرف اپنا سفر جاری رکھے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page